Health is Wealth With Dr Javed

Tuesday, April 23, 2024

What is blog?how earn money from blog|how make blog website|بلاگر کیا ہے/بلاگ سے پیسے کیسے کمائیں



AAAAA AAAA

What is blog?how earn money from blog|how make blog website|بلاگر کیا ہے/بلاگ سے پیسے کیسے کمائیں

دور حاضر میں بلاگنگ کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ دنیا بھر میں بلاگرز کی تعداد 350 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں ہر چھے ماہ میhttps://go.fiverr.com/visit/?bta=957025&brand=fp&landingPage=https%253A%252F%252Fwww.fiverr.com%252Fs%252Fm8EWqZں کم و بیش 25 ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اکثر کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین اپنے اداروں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بلاگز لکھتے ہیں۔ بلاگنگ کئی لوگوں کی ماہانہ آمدنی کا ذریعہ بھی ہے، بلاگنگ کے ذریعے کئی بڑی بڑی کمپنیاں تشہیری مہم چلاتی ہیں اور اپنی کمپنی کے لیے بلاگز لکھواتی ہیں۔ الغرض بلاگنگ مارکیٹنگ کا ایک اہم اور بنیادی ذریعہ ہے۔




لفظ بلاگ انگریزی زبان کے الفاظ ”ویب“ اور ”لاگ“ کے اشتراک سے وجود میں آیا ہے۔ بلاگ ایسی تحریر یا مضمون کو کہتے ہیں جو ورلڈ وائیڈ ویب (ڈیجیٹل میڈیا/برقی صفحات) پر شائع کی جائے۔


سادہ اور آسان لفظوں میں آپ اسے ڈیجیٹل ڈائری بھی کہہ سکتے ہیں جہاں آپ اپنے نقطہ نظر، اپنے تجربات و مشاہدات اور خیالات کا لاکھوں لوگوں کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیں۔ معاشرتی مسائل، سیاست، تعلیم، کھیل، فیشن اور دیگر کئی چیزوں پر تبصرے کرسکتے ہیں۔ جہاں لکھنے کے لیے آپ کسی ادارے یا ویب سائٹ کی پالیسیز کے پابند نہیں ہوتے۔ آپ کا لکھا عوامی ہوتا ہے جسے لوگ پڑھتے ہیں، تبصرہ و تنقید کرتے ہیں۔


کیسے لکھیں؟ اصول و ضوابط:https://go.fiverr.com/visit/?bta=957025&brand=fp&landingPage=https%253A%252F%252Fwww.fiverr.com%252Fs%252Fm8EWqZ

بلاگ لکھنے کا طریقہ کار بالعموم وہی ہے جو مضمون لکھنے کا ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ بلاگ میں مضمون کی طرح پابند نہیں ہوتے، بلاگ میں کئی موضوعات پر بیک وقت تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ مضمون میں عموماً لسانی سنجیدگی اور معیار کا خیال رکھا جاتا ہے جب کہ بلاگ میں بے لاگ تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ بلاگ لکھتے وقت بھی تحریر کے مقصد کو مد نظر رکھیں، یہ سوچ کر لکھیں کہ آپ کے لکھے ہوئے کو ہر طرح کا مزاج اور سوچ رکھنے والے لوگ پڑھیں گے۔ ان کا آپ سے، آپ کی رائے نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

موضوع کا انتخاب

بلاگ لکھنے کے لیے سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کریں۔ موضوع کی تلاش مشکل کام نہیں۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کئی کہانیاں چلتی پھرتی نظر آئیں گی۔ کہیں کوئی بوڑھا باپ مالی مشکلات کا شکار نظر آئے گا تو کہیں مظلوم اولاد والدین کی شفقت سے محروم دکھائی دے گی۔ کہیں ملکی حالات و سیاست پر کوئی تبصرہ کرتا دکھائی دے گا تو کوئی مہنگائی اور کرپشن کا رونا روتا نظر آئے گا۔ کہیں کوئی خوشیاں بانٹتا دکھائی دے گا تو کہیں کوئی سوشل میڈیا پر مصروف نظر آئے گا۔ دیکھنے والی آنکھ اور غور و فکر کرنے والا ذہن میسر ہو تو اپنے ارد گرد اس قدر کثیر موضوعات ملیں گے کہ چناؤ مشکل ہو جائے گا کہ کس پر پہلے قلم اٹھایا جائے۔ موضوع کے انتخاب کے بعد لکھنے کا مرحلہ آتا ہے۔


کوئی بھی مضمون تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

1۔ ابتدائیہ، تمہید

2۔ مرکزی خیال

3۔ خاتمہ


ابتدائیہ:


ابتدائیہ مضمون یا بلاگ کے ابتدائی اقتباس (پیراگراف) کو کہتے ہیں۔ ایک اقتباس کم و بیش پانچ سے سات سطروں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ مضمون کا ابتدائیہ جاندار ہونا بے حد ضروری ہے۔ یہی قاری کو مکمل تحریر پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔


مضمون کے آغاز کے چند مستعمل طریقے یہ ہیں:

1۔ کسی کہانی سے

2۔ کسی خبر سے

3۔ کسی محاورے یا ضرب المثل سے

4۔ سادہ سے انداز میں


AAAAA AAAA 


  مرکزی خیال

تحریرکا مرکزی خیال عموما تین سے چار اقتباسات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مرکزی خیال میں تحریر کا مقصد واضح

AAAAAA AAA 
ہونا چاہیے یہ تحریر کا مرکزی اور اہم حصہ ہوتا ہے۔ معلومات کی فراہمی، مسا ئل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا سد باب بھی تحریر کے مرکزی خیال میں لکھا جاتا ہے۔



یہ تحریر کا آخری اقتباس ہوتا ہے جس میں عموما تحریر کا نچوڑ یا حرف آخر لکھا جاتا ہے، تحریر کی تمہید کی طرح اس کا اختتام بھی موثر اور جاندار ہونا چاہیے جو قاری کو کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں مدد فراہم کرے۔


جب بھی کسی ویب سائٹ کے لیے بلاگ لکھیں تو اس ویب سائٹ کی تھیم کو مد نظر رکھیں۔ یعنی اگر ویب سائٹ فیشن اور شو بز کی ہے تو اس میں بلاگ بھی اسی کے مطابق لکھیں۔ اسی طرح اگر ویب سائٹ تعلیم کے حوالے سے ہو تو اس کے لیے اکیڈمک بلاگز لکھے جائیں گے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہو گی تو بلاگ بھی اس موضوع پر ہی ہوں گے۔ لہذا جس ویب سائٹ کے لیے بلاگ لکھنے کا ارادہ کریں، لکھنے سے قبل اس ویب سائٹ کے بلاگز کامطالعہ ضرور کریں۔

AAAAAA AAA 

بلاگ لکھتے ہوئے وقت الفاظ کی تعداد کا خیال رکھیں، آج کا مصروف ترین دور نینو فکشن اور مائکرو فکشن کا ہے۔ لوگ طویل ترین تحریر کا مطالعہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اس لیے کم الفاظ میں بامعنی اور جامع تحریر لکھیے جو قاری کواختتام تک باندھے رکھے۔ بلاگ 1000 سے 1200 الفاظ پر مشتمل ہونا چاہیے (جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، یہ حد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری رائے میں بلاگ کی لمبائی 400 سے 800 الفاظ کے درمیان مناسب ہوتی ہے: مدیر)۔ بلاگ کا ابتدائیہ جاندارہونا چاہیے جو قاری کو مکمل تحریر پڑھنے پر مجبور کردے۔ تحریر میں ربط کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ رموز و املا نیز صحت زبان کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔ چند لفظی غلطیاں اچھی بھلی تحریر کو گہنا دیتی ہیں۔ لکھنے کے بعد تحریر کی ادارت ضرور کریں۔ کم از کم دو سے تین بار تحریر کو بغور پڑھیں۔


بلاگنگ کا فائدہ اور نقصان

بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری کے ساتھ ایک عوامی تحریر بھی ہوتی ہے، جسے لوگ پڑھتے ہیں، متاثر ہوتے ہیں اور بعض دفعہ اسے معمولات زندگی میں شامل بھی کرلیتے ہیں۔ اخبارات میں آرٹیکل لکھنے اور بلاگ لکھنے میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ بلاگ پر فوری رد عمل مل جاتا ہے۔ عوام تک آپ کی رائے اور عوامی رائے آپ تک براہ راست پہنچ جاتی ہے۔ چوں کہ آپ کی تحریر براہ راست قارئین پڑھتے ہیں اور اکثر و بیشتر وہ سینسر ہو کر ان تک نہیں پہنچتی تو بحیثیت لکھاری آپ پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی تحریر کے ذریعے مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ مفاد عامہ کے لیے لکھیں، اشتعال انگیز مواد، فرقہ پرستی، نسلی و لسانی رنجشوں پر تکرار سے گریز کریں۔

AAAAAA AAA 



ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحاریر کا جامع، مکمل اور مصدقہ ہونا بے حد اہم ہے۔ اکثر طلبا و طالبات اپنے نوٹس وغیرہ بنانے کے لیے ایسی ہی سائٹس سے مواد جمع کرتے ہیں۔ ناقص اور غیر مصدقہ معلومات یا تو انہیں غلط راہ پر لے جائے گی یا ان کے ذہنوں کو الجھن میں ڈال دے گی۔ بلاگنگ کے ذریعے ہم عوام کو ایک کلک پر دنیا بھر کی معلومات فراہم کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ انٹرنیٹ پر موجود تمام معلومات مستند اور درست ہو۔

AAAAAA AAA 

اکثر دیکھا گیا ہے کہ انٹر نیٹ پر تاریخی واقعات کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے یا قرآن و احادیث کے معانی و مفہوم تبدیل کرکے پیش کیا جاتا ہے تو جب بھی بلاگ لکھیں اس طرح کی معلومات مستند حوالوں کے ساتھ ضبط تحریر میں لائیں۔


بلاگ کی اقسام:


بلاگ جیسا کہ ویب اور لاگ سے مل کر بنا ہے تو ابتدا میں بلاگ صرف ویب سائٹ پر https://go.fiverr.com/visit/?bta=957025&brand=fp&landingPage=https%253A%252F%252Fwww.fiverr.com%252Fs%252Fm8EWqZشائع ہونے والی تحاریر کو ہی کہا اور سمجھا جاتا تھا لیکن جوں جوں سوشل میڈیا نے مقبولیت کے مدارج طے کیے، کئی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس وجود میں آئیں اور بلاگنگ بھی وسعت اختیار کرتی گئی۔ اب بلاگ صرف تحریری مواد کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اس کی کئی دیگراقسام بھی متعارف کروائی جاچکی ہیں۔ جیسا کہ ویڈیو بلاگ، اسکیچ بلاگ، فوٹوبلاگ، میوزک بلاگ وغیرہ۔

AAAAAAAAA 


ذاتی بلاگر یا ویب سائٹ :




بلاگنگ کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کسی ویب سائٹ کے لیے لکھیں بلکہ آپ اپنا ذاتی بلاگ یا ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ کئی بلاگز اور ویب سائٹ آپ کو فری اور پیڈ بلاگ بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جن میں سر فہرست بلاگر اور ورڈ پریس ہیں۔ آپ ان پر فری یا پیڈ بلاگ بنا کر لکھ سکتے ہیں۔


بلاگ یا ویب سائٹ کے ذریعے کیسے کمائیں؟


ڈیجیٹل میڈیا اب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اب اس سے کئی لوگوں کا روز گار وابستہ ہے۔ لوگوں نے مختلف طریقوں سے اسے پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی طرح بلاگنگ سے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ اس کے دو آسان طریقے یہ ہیں۔

https://go.fiverr.com/visit/?bta=957025&brand=fp&landingPage=https%253A%252F%252Fwww.fiverr.com%252Fs%252Fm8EWqZ

پیڈ بلاگز/فری لینسنگ: ایسی ویب سائٹس جو بلاگرز کو بلاگ لکھنے کی مد میں پیسے دیتی ہیں، ان ویب سائٹس کے لیے بلاگ لکھیں۔ کئی مشہور کمپنیاں اپنے برانڈز کی تشہیر کے لیے بلاگرز سے رابطہ کر کے ریویو بلاگز لکھواتی ہیں۔ ایسی سائٹس کے لیے بلاگ لکھ کر آپ با آسانی پیسے کما سکتے ہیں۔


AAAAAA AAA 


ذاتی ویب سائٹ: آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ یا بلاگ بنا کر بھی پیسے کما سکتے ہیں۔ آپ کے بلاگ یا ویب سائٹ کے ویوز کے حساب سے گوگل ایڈ سنس کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔


Kedney Failure Cause|گردوں کے ناکارہ ہونے کی وجوہات

 Kedney Failure cause


یہ ایک "ڈایالاسسز مشین" ہے جس کی لمبائی تقریباً چار فٹ ہوگی۔ جبکہ ایک بالغ انسان کے دونوں گردوں کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر بھی ناپیں گے تو انکی مشترکہ لمبائی ایک فٹ سے کم ہوگی۔ خیر سائز کی بجائے پرفارمینس پر غور کرتے ہیں۔


تو ہم یہ ڈایالاسسز مشین تب استعمال کرتے ہیں جب مریض کے گردے انتہائی حد تک ناکارہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ یعنی صرف دس سے پندرہ فیصد تک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم گردوں کا کام اس ڈایالاسسز مشین سے لیتے ہیں، یعنی یہ خون میں موجود فاسد مادوں (جو نارمل حالات میں پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں) کو فلٹر کرکے نکال دیتی ہے۔



AAAAA AAAA 

دنیا کے مختلف حصوں میں ڈائلیسس کا دورانیہ تین سے پانچ گھنٹے کا ہوتا ہے، اوسط کے لیے ہم اسے چار گھنٹے مان لیتے ہیں، اور عموماً ایک ہفتے میں تین بار ڈائلیسس کئے جاتے ہیں۔ یعنی ایک ہفتے میں (4×3) بارہ گھنٹے ڈائلیسس ہوتے ہیں۔ عام طور پر ڈائلیسس مشین فی منٹ تین سو سے چار سو ملی لیٹر خون فلٹر کرتی ہے۔ اوسطا کے لیے ہم اسے تین سو پچاس ملی لیٹر فی منٹ (350ml/ mint) مان لیتے ہیں۔ اس حساب سے ایک گھنٹے میں فلٹر ہونے والا خون (350×60) بنے گا 21000 ملی لیٹر یعنی 21 لیٹر۔ 

اور ایک ہفتے میں بارہ گھنٹے ڈائلیسس ہوتا ہے تو ایک ہفتے میں ٹوٹل فلٹر ہونے والا خون ہوگا (21×12) 252 لیٹر۔ حساب میں کمی بیشی  کے لیے ہم اسے 260 لیٹر مان لیتے ہیں۔ 


تو ایک ہفتے میں ہونے والے ڈائلیسس سے 260 لیٹر خون فلٹر ہوتا ہے۔ اب ذرا اپنے گردوں کی کارکردگی بھی دیکھ لیتے ہیں۔

تو اوسطاً ہمارا دل جب ایک منٹ میں تقریباً 5 لیٹر خون جسم میں پمپ کردیتا ہے۔ اس خون کا تقریباً 25 فیصد تک حصہ ہمارے گردوں میں جاتا ہے۔ یعنی (5 کا 25٪) 1.25 لیٹر۔


AAAA AAÀ 

یہاں ہمیں ایک اور بات سمجھنا ہوگی۔ وہ یہ کہ ہمارے خون کے دو حصے ہوتے ہیں، ایک خون کے خلیے نما حصے جیسے سرخ، سفید اور پلیٹس وغیرہ، ان کے ساتھ خون میں موجود پروٹینز کو بھی شامل کرلیں۔ یہ سب چیزیں مل کر خون کا 45 فیصد حصہ بناتی ہیں۔ جبکہ خون کا دوسرا 55 فیصد حصہ مائع حالت میں موجود "پلازمہ" پر مشتمل ہوتا ہے۔ خون میں موجود فاسد مادے اصل میں اسی پلازمہ میں حل ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی گردوں نے جو صفائی کا کام کرنا ہے وہ خون کے اسی 55 فیصد حصے سے کرنا ہے۔ 

گویا کہ گردوں میں آنے والے اس 1.25 لیٹر فی منٹ خون کا 55 فیصد گردوں میں فلٹر ہونے کو جائے گا، جو کہ 600 ملی لیٹر فی منٹ بنتا ہے۔

لیکن گردوں میں ایک بار فلٹر ہونے کے لیے جتنا مواد (خون کا حصہ) آتا ہے، اس کا بڑا حصہ واپس خون میں جذب کردیا جاتا ہے، اور صرف 20 سے 25فیصد حصے کے فاسد مادے ہی پیشاب کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔ حساب کو آسان کرنے کے لیے ہم اسے 20 فیصد سے تھوڑا زیادہ مان لیتے ہیں یعنی 600 ملی لیٹر کا اگر 20.83 فیصد لیں تو 125 ملی لیٹر بن جائے گا۔ 



یعنی حسابی طور پر ہر منٹ ایک انسان کے گردے 125ملی لیٹر خون فلٹر کرتا ہے۔ اگر اپ ایک دن کا حساب لگائیں گے تو یہ 180 لیٹر بنے گا، اور اگر ہفتے کا حساب لگائیں گے تو (180×7) تو 1260 لیٹر بنے گا۔ 

یعنی ایک ہفتے میں ڈائلیسس سے 260 لیٹر کے قریب خون فلٹر ہوتا ہے جبکہ اپکے جسم میں موجود گردے جو ہر وقت کام کرتے رہتے ہیں وہ 1260 لیٹر خون فلٹر کر دیتے ہیں۔!!!

لہذا یہ مشین گردوں کا مقابلہ تو نہیں کرسکتی۔ یہاں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ گردے ہر وقت کام کر رہے ہیں جبکہ ڈائلیسس مشین کو ہفتے میں صرف کچھ گھنٹوں کا وقت ملتا ہے۔ تو یہ بھی ڈائلیسس مشین میں ہی کمی کی وجہ سے ہے۔ آپ چوبیس گھنٹے اس ڈائلیسس مشین کو استعمال نہیں کرسکتے، اس سے مختلف کی پیچیدگیاں اور خرابیاں سامنے آئیں گی، ساتھ میں یہ مریض کے آرام اور پیسوں کا بھی نقصان ہے۔ 

AAAAA AAAA 

مگر سب سے اہم بات یہ کہ یہ مشین تب جان بچاتی ہے جب گردے جواب دے چکے ہوتے ہیں، اور اس کا کریڈٹ اس مشین اور اسکے پیچھے کی سائنس کو ضرور جاتا ہے۔ 


خیر اس تحریر میں میں نے گردوں کی کارکردگی کا حساب لگایا ہے، اسے Glomerular Filtration Rate یعنی GFR کہا جاتا ہے، اور اس کی ویلیو سے ہم کسی انسان کے گردوں کی کارکردگی کو ناپ سکتے ہیں کہ اس کے گردے صحیح کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ 


اپنی اگلی تحریر میں (اگر لکھنے کا موقع ملا) ہم یہ بات کریں گے کہ لیبارٹری ٹیسٹ (کیراٹنن لیول ٹیسٹ) کی مدد سے ہم اس GFR اور گردوں کی کارکردگی کا حساب کیسے لگا سکتے ہیں۔




باقی میری اپنی ریاضی کچھ اچھی نہیں، پھر بھی تحریر میں گردوں پر کئے گئے اس حساب کتاب کا خلاصہ کمنٹ میں دے دوں گا۔۔۔

#healthiswealthwithdrjaved#drjaved

#kedneyfailure#

Thursday, April 18, 2024

Liver function and diseases and treatment

 The liver performs numerous important functions in the body, including:

1. Detoxification: The liver helps to break down harmful substances such as alcohol, drugs, and other toxins, making them easier for the body to eliminate.

2. Metabolism: The liver plays a key role in the metabolism of carbohydrates, fats, and proteins, helping to regulate blood sugar levels and convert nutrients into energy.

3. Storage: The liver stores essential nutrients such as vitamins and minerals, as well as glycogen (a form of glucose), which can be released into the bloodstream when needed.

AAAAAA AAA 


AAAAAA AAA



4. Synthesis: The liver produces important proteins such as albumin and clotting factors that are essential for maintaining overall health.

5. Bile production: The liver produces bile, a substance that helps to digest fats and absorb fat-soluble vitamins.

6. Immune function: The liver plays a role in the immune system by helping to remove bacteria and other pathogens from the blood.

AAAAA AAAA 


7. Regulation of cholesterol levels: The liver helps to regulate cholesterol levels in the blood by producing and storing cholesterol and bile acids.

Wednesday, April 17, 2024

سانحہ بہاولنگر سچائی کی حد تک

 

۔بہاولنگر واقع

اک نقطہ نظر یہ بھی ہے، (منقول)

 #cobflictBahawalNagar #incidentBahawalNagar #comeoutInnerStory #pakArmyVSPunjabPolice 








سانحہ بہاول نگر،

شہر کے باہر چک مدرسہ کی طرف جاتے ہوئے پولیس کا ایک ناکہ ہے ، یہ ناکہ بڑا کماؤ پُتر ہے ۔ ہر دو سے تین سال بعد یہی ناکہ ضلع کا ایک آدھ DPO کھا جاتا ہے ۔


دو سال پہلے بھی ایک DPO اِسی ناکے نے کھایا تھا جب کسی MPA کے لوگوں کو یہاں مارا پیٹا گیا ۔ 2016 میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔


خیر،، میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتا ، امید ہے کہ ضلع بہاولنگر کے قارئین میری بات کو بہتر سمجھ گئے ہوں گے ۔


رمضان کے آخری عشرے میں یہی پولیس کا ناکہ زیادہ “سخت اور قانونی “ ہو جاتا ہے ۔ ضلع کی زیادہ تر عیدی یہیں سے اکٹھی ہونی ہوتی ہے ۔


قبلہ محترم رضوان عباس صاحب اس علاقے کے SHO ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے جانور اور چرند پرند بھی ان کے غضب اور ظلم سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ 

AAAAA AAAA 

مورخہ 8 اپریل کو اِسی ناکے پر عیدیاں وصولی مہم زوروں پر تھی ، ہر گاڑی ، موٹرسائیکل ، بندے کو روکا جا رہا تھا ، گالی گلوچ ، تھپڑ مکا ، وغیرہ ۔

ایک موٹرسائیکل سوار کے ساتھ پیسے کم دینے پر تلخ کلامی ہوئی ، اس کو مارا ماری بھی کی گئی لیکن حالات  کو دیکھتے ہوئے وہ سوار وہاں سے بھاگ نکلا ۔

حضرت رضوان عباس صاحب کے ناکے سے زندہ بھاگ نکلنا کوئی معمولی بات نا تھی ، اس لئے اسی رات شناخت اور نشاندہی کے بعد اس بندے کے گھر پر دھاوا بولا گیا ، بغیر کسی وارنٹ یا FIR کے ۔ 


وہ لڑکا تو گھر میں نا تھا ، البتہ اس کے دو بھائی جو کے فوج کے ملازم ہیں ، ایک وزیرستان  سے اور دوسرا راولپنڈی سے عید منانے گھر آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے بغیر وارنٹ و قانونی جواز پولیس سے آنے کی وجہ دریافت کی ۔ بات بگڑی ، پولیس نے خواتین کے کپڑے تک پھاڑے اور دونوں بھائیوں کو اٹھا کر متعلقہ تھانے میں لے آئی ۔ ساری رات ان پر تشدد ہوا ، صبح کے وقت  دونوں بھائیوں کی حالت زیادہ خون بہنے اور چند ایک  ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے تشویشناک ہو گئی ۔ موقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ، پولیس نے دونوں کو بیہوشی کی حالت میں DHQ بہاولنگر پہنچایا اور بتایا کے ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور دونوں سڑک پر بیہوش پڑے ملے ہیں ۔

AAAA AAAAA 

شام کو جب ایک بھائی کو ہوش آیا تو اس نے متعلقہ ڈاکٹر کو ساری بِپتا بیان کی ۔ ہسپتال والوں نے ضابطے کے مطابق فوراً متعلقہ فوجی ادارے کو ان کے ملازمین کی ہسپتال میں موجودگی اور میڈیکل کنڈیشن کے بارے اطلاع دی ۔ 

جب بات عام ہوئی تو معلوم ہوا کے تھانہ میں نا تو کوئی اینٹری کی گئی اور نا ہی کوئ ریکارڈ تھا ۔  بہاولنگر پولیس حکام نے معاملے کو دبانے کے لئے ایک ہلکی سی FIR کر کے SHO اور دیگر دو سے تین ملازمین کو معطل کر کے دوسرے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا ۔

فوج کے متعلقہ ادارے نے بہاولنگر پولیس کو معاملے کی شفاف انکوائری کرنے اور اس پر ایکشن لینے کا کہا ۔


ساتھ ہی ساتھ ، گیریژن کمانڈر بہاولنگر کو  زخمی ملازمین کے بہترین علاج اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے احکامات دئیے گئے۔ 

عید کی صبح نماز عید کے فوراً بعد گیریژن کمانڈر نے DHQ میں زیر علاج ملازمین کی تیمارداری کی ، اور وہیں سے  DPO بہاولنگر سے فون پر اب تک ہونے والی قانونی کارروائی کی تفصیل دریافت کی ۔ کمانڈر کو بتایا گیا کہ تمام ملازمین اس وقت حوالات میں بند ہیں اور واقعے کی سخت ترین FIR کاٹ کر تفتیش جاری ہے ۔ 

اس کے بعد کمانڈر ہسپتال سے سیدھے تھانہ اے ڈیویژن بہاولنگر گئے تا کہ درج کی گئی FIR اور موجودہ قانونی کارروائی کا جائزہ لے کر فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو مطلع کیا جا سکے ۔

تھانے پہنچ کر کمانڈر نے جب SHO کے آفس میں ملاقات کی تو تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ SHO کی کرسی پر بیٹھا شخص تھانہ اے ڈیویژن کا انچارج نہیں بلکہ مرد مجاہد رضوان عباس ہے اور تھانے کا اصل انچارج ساتھ دوسری کرسی پر براجمان طنزیہ مسکرا رہا ہے ۔ جبکہ باقی تینوں  پولیس ملزمان بھی اسی دفتر میں بیٹھے عید کی مٹھائی اور چائے نوش فرما رہے ہیں ۔


AAAAAA AAA 

کمانڈر صاحب نے اصلی والے انچارج سے استفسار کیا کہ یہ کون سی حوالات اور کون سی انکوائری چل رہی ہے ۔ 


بجائے کوئی جواب دینے کے تھانے کے عملے نے اعلیٰ افسر سے بدتمیزی کی اور گالی گلوچ اور دھکم پیل کے ساتھ گیریژن کمانڈر کو تھانے سے باہر نکال دیا گیا ۔ یہاں یہ امر بیان کرنا ضروری ہے کہ فوجی افسر نے اپنے اسٹاف اور اسکارٹ کو ردعمل دینے سے منع کیا اور واپس اپنے آفس آ کر پولیس کے اعلیٰ حکام کو پورے واقعہ سے مطلع کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ پورے معاملے کی فوٹیج تھانے کے CCTV کیمروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ 

پولیس حکام نے اپنے تھانے کی یقین دہانی پر واقعہ کو مسترد کر دیا ۔


اس کے بعد کمانڈر نے اپنے اعلیٰ حکام کو تمام واقعے سے آگاہ کیا ۔ وہاں سے حکم ہوا کے آپ اپنی ایک ٹیکنیکل ٹیم بھیج کر تھانہ اے ڈیویژن سے CCTV ریکارڈ کی کاپی منگوائیں تا کہ آئندہ کی محکمانہ کارروائی میں استعمال کی جا سکے ، اس سلسلے میں پولیس کو بھی تعاون کے لئے  ایک دفتری چٹھی بھجوائی جا چکی ہے ۔

اسی چٹھی کی کاپی کے ساتھ دو بندوں کی ٹیکنیکل ٹیم کو تھانہ اے ڈیویژن بھجوایا گیا ، ٹیم کے پہنچنے پر تھانے کے عملہ نے دوبارہ وہی طوفان بدتمیزی بھرپا کیا ، ٹیم کے دونوں افراد کو زدوکوب کرنے کے بعد حوالات میں ڈال دیا گیا اور CCTV کا بھی سارا ریکارڈ زائل کر دیا گیا۔ ٹیم کے واپس نا پہنچنے پر جب بہاولنگر  گیریژن نے تھانے سے رابطہ کیا تو جواب دیا گیا کہ CCTV سسٹم خراب تھا ، اس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ، آپ کے  دونوں بندوں نے تھانے کے عملے سے بدتمیزی کی ہے ، اس لئے FIR کاٹ کر ان کو حوالات میں بند کر  دیا گیا ہے ، لہٰذا ان کی ضمانت کا بندوبست کریں ۔

AAAAA AAAA 

پھر اس کے بعد ، آرمی کے بیس افراد کی ایک ٹیم بھجوائی گئی ، اپنے بندوں کی “ضمانت “اور ضروری “قانونی کارروائی “ کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔ جس کی مزید تفصیلات آپ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں ۔


 اس کے بعد کے زیادہ تر حالات سے قارئین واقف ہیں ۔ آپ سب نے ان واقعات کو اپنی اپنی عینک لگا کر دیکھنا ہے ، لہٰذا خود ہی سوال کیجئے ، خود ہی کمنٹس میں جواب لکھئیے ، میرا کام آپ سب کو واقعہ کی اصل کہانی بتانا تھا


Tuesday, April 16, 2024

Perfect treatment of male impotency

 Perfect treatment of male impotency ,

Male erection disfunction,

Lazzy pinis, treatment for full power


Perfect treatment for full power



<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/2-_LCKvQY78?si=CSb58fZKm3Abq2Wu" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe>



<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/sFJWq9E9NHU?si=SesWqnHJNHZ7wYce&amp;start=5" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe>





Saturday, April 6, 2024

سبز چائے کے فوائد

  1. CCR
    AAAÀAA AAAA



سبز چائے کا استعمال پاکستان میں بہت عام ہے بلکہ

AAAA AAAAAA

اسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کرشماتی مشروب کس حد تک صحت کے لیے فائدہ

 مند ہے ؟ کینسر سے لے کر مہاسوں تک کے لیے اس کا استعمال آپ کو حیران کر دے گا۔

ریڈرز ڈائجسٹ نے طبی سائنس میں اس حوالے سے جو انکشافات کیے ہیں ان کی فہرست مرتب کی ہے جو درج ذیل ہے۔

کئی اقسام کے کینسر کی روک تھام کرے

ایک تحقیق میں سبز چائے اور کینسر کی روک تھام کے لیے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے۔ محققین کے مطابق سبز چائے میں موجود پولیفینولز نامی جز کینسر کی خلیات کو مارنے اور ان کی پیشقدمی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سبز چائے کا استعمال کرنے والی خواتین میں علاج کے بعد بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا امکان کم ہوتا ہے، جبکہ ایک اور امریکی تحقیق میں اسے آنتوں کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد تک کم کرنے کے لیے بہترین بتایا گیا۔

دل کو صحت مند بنائے

AAAA AAAA

https://andbalanced.com/pages/detox-foot-pads-dg#aff=Javedahmedanjum

سبز چائے میں فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے جو خراب کولیسٹرول کے اثرات کو کم کرنے، خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور شریانوں کے افعال میں بہتری لاتے ہیں۔ اسی طرح سبز چائے کولیسٹرول اور شریانوں میں بلاکیج کو کم کرتا ہے۔ روزانہ ایک سے

 دو کپ سبز چائے پینے والوں میں شریانوں کے سکڑنے کا خطرہ 45 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

جوڑوں کے درد کے لیے بہترین

خارش اور درد کی روک تھام کے لیے روزانہ چار کپ سبز چائے پینا شروع کردیں۔ امریکا کی ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز چائے میں ایسا کیمیائی کمپاﺅنڈ ہوتا ہے جو طاقتور انسداد سوجن اور اینٹی آکسائیڈنٹ کا کام کرتا ہے جس سے جوڑوں کے امراض کا خطرہ چائے سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

دماغی صلاحیتوں کو بڑھائے


مردانہ طاقت اور لانگ ٹائمنگ کے لئیے
AAAAA AAAA

نیندرلینڈ کے محققین نے ایک حالیہ تحقیق میں تصدیق کی ہے کہ سبز چائے کے دو اجزاءایل تھیانائن اور کیفین توجہ اور ہوشیاری کی سطح میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ توانائی بخش دیگر مشروبات کے مقابلے میں سبز چائے کے استعمال سے اعصابی تناﺅ اور خلجان جیسی کیفیات میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ اس میں کیفین کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں

 شائع ایک او رتحقیق کے مطابق روزانہ ایک کپ سبز چائے 55 سال سے زائد عمر کے افراد کی ذہنی صلاحیتوں کی تنزلی کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

مہاسوں کو صاف کرے


میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سبز چائے میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس اجزاءدو تہائی کیل مہاسوں کو صاف کردیتے ہیں، تاہم اس کے لیے چائے کو پینے کی بجائے ٹھنڈا کرکے فیس واش کے طور پر استعمال کرنا ہوگا، چکنی جلد کے لیے پودینے کی چائے کو سبز چائے میں شامل کرکے یہ کام کرنا ہوگا۔

پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے خلاف جدوجہد

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق دو سے تین کپ سبز چائے کا روزانہ

 استعمال پیشاب کی نالی کے انفیکشن کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس چائے میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جو مثانے کی سوجن کو کم کرتے ہیں۔

الرجی سے ریلیف دے


سبز چائے فلیونوئڈز یعنی نباتاتی کیمیکلز سے بھرپور ہوتی ہے جو سوجن سے تحفظ دیتے ہیں۔ الرجیز کا سامنا ہونے پر روزانہ کچھ کپ اس مشروب کے استعمال سے ناک کے اندرونی حصے 

BBBB BBB 

کی سوجن میں کمی لاسکتی ہے جو الرجی سے تحفظ کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔


آنکھوں کی سوجن کم کرے

کچھ ماہرین جڑی بوٹیوں کا دعویٰ ہے کہ سبز چائے کے ٹی بیگ کو گیلا کرکے آنکھوں پر پندرہ سے بیس منٹ تک پھیرا یا

 دبایا جائے تو اس سے تھکی ہوئی یا سوجی ہوئی آنکھوں کو سکون ملتا ہے اور وہ تازہ دم ہوجاتی ہیں۔

دمہ کی علامات کو کم کرے

ایک تحقیق کے مطابق سبز چائے میں موجود ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کیورسیٹن ماسٹ نامی خلیات میں ایسے اجزاءمیں جگہ بنالیتا ہے جو الرجک ردعمل کا باعث بنتے ہیں(دمہ سے بچاﺅ کے لیے دی جانے والی ادویات بھی یہی کام کرتی ہیں)۔ روزانہ دو کپ سبز چائے کا استعمال دمہ کی علامات کو دور رکھنے میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

ذہنی تناﺅ میں کمی لائے

سبز چائے میں کیفین کی مقدار کم ہوتی ہے اور اس کے پانچ کم کا استعمال ممکنہ طور پر نفسیاتی تناﺅ میں کمی لاسکتا ہے۔ 

یہ بات جاپان کی ایک یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق میں سامنے آئی۔ محققین اس کے لیے کسی مخصوص جز کی نشاندہی تو نہیں کرسکے تاہم جانوروں پر تجربات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ مشروب جسم میں تناﺅ کا باعث بننے والے کیمیکلز کی مقدار کو کردیتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


The Secret to Natural Weight Loss: A Scientific Analysis of Garlic, Ginger, Cloves, and Honey

By: Dr. Javied (Health Is Wealth) In an era where obesity has become a global epidemic, people in countries like the USA and Canada are incr...