۔بہاولنگر واقع
اک نقطہ نظر یہ بھی ہے، (منقول)
#cobflictBahawalNagar #incidentBahawalNagar #comeoutInnerStory #pakArmyVSPunjabPolice
سانحہ بہاول نگر،
شہر کے باہر چک مدرسہ کی طرف جاتے ہوئے پولیس کا ایک ناکہ ہے ، یہ ناکہ بڑا کماؤ پُتر ہے ۔ ہر دو سے تین سال بعد یہی ناکہ ضلع کا ایک آدھ DPO کھا جاتا ہے ۔
دو سال پہلے بھی ایک DPO اِسی ناکے نے کھایا تھا جب کسی MPA کے لوگوں کو یہاں مارا پیٹا گیا ۔ 2016 میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔
خیر،، میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتا ، امید ہے کہ ضلع بہاولنگر کے قارئین میری بات کو بہتر سمجھ گئے ہوں گے ۔
رمضان کے آخری عشرے میں یہی پولیس کا ناکہ زیادہ “سخت اور قانونی “ ہو جاتا ہے ۔ ضلع کی زیادہ تر عیدی یہیں سے اکٹھی ہونی ہوتی ہے ۔
قبلہ محترم رضوان عباس صاحب اس علاقے کے SHO ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے جانور اور چرند پرند بھی ان کے غضب اور ظلم سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
AAAAA AAAA
مورخہ 8 اپریل کو اِسی ناکے پر عیدیاں وصولی مہم زوروں پر تھی ، ہر گاڑی ، موٹرسائیکل ، بندے کو روکا جا رہا تھا ، گالی گلوچ ، تھپڑ مکا ، وغیرہ ۔
ایک موٹرسائیکل سوار کے ساتھ پیسے کم دینے پر تلخ کلامی ہوئی ، اس کو مارا ماری بھی کی گئی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے وہ سوار وہاں سے بھاگ نکلا ۔
حضرت رضوان عباس صاحب کے ناکے سے زندہ بھاگ نکلنا کوئی معمولی بات نا تھی ، اس لئے اسی رات شناخت اور نشاندہی کے بعد اس بندے کے گھر پر دھاوا بولا گیا ، بغیر کسی وارنٹ یا FIR کے ۔
وہ لڑکا تو گھر میں نا تھا ، البتہ اس کے دو بھائی جو کے فوج کے ملازم ہیں ، ایک وزیرستان سے اور دوسرا راولپنڈی سے عید منانے گھر آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے بغیر وارنٹ و قانونی جواز پولیس سے آنے کی وجہ دریافت کی ۔ بات بگڑی ، پولیس نے خواتین کے کپڑے تک پھاڑے اور دونوں بھائیوں کو اٹھا کر متعلقہ تھانے میں لے آئی ۔ ساری رات ان پر تشدد ہوا ، صبح کے وقت دونوں بھائیوں کی حالت زیادہ خون بہنے اور چند ایک ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے تشویشناک ہو گئی ۔ موقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ، پولیس نے دونوں کو بیہوشی کی حالت میں DHQ بہاولنگر پہنچایا اور بتایا کے ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور دونوں سڑک پر بیہوش پڑے ملے ہیں ۔
AAAA AAAAA
شام کو جب ایک بھائی کو ہوش آیا تو اس نے متعلقہ ڈاکٹر کو ساری بِپتا بیان کی ۔ ہسپتال والوں نے ضابطے کے مطابق فوراً متعلقہ فوجی ادارے کو ان کے ملازمین کی ہسپتال میں موجودگی اور میڈیکل کنڈیشن کے بارے اطلاع دی ۔
جب بات عام ہوئی تو معلوم ہوا کے تھانہ میں نا تو کوئی اینٹری کی گئی اور نا ہی کوئ ریکارڈ تھا ۔ بہاولنگر پولیس حکام نے معاملے کو دبانے کے لئے ایک ہلکی سی FIR کر کے SHO اور دیگر دو سے تین ملازمین کو معطل کر کے دوسرے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا ۔
فوج کے متعلقہ ادارے نے بہاولنگر پولیس کو معاملے کی شفاف انکوائری کرنے اور اس پر ایکشن لینے کا کہا ۔
ساتھ ہی ساتھ ، گیریژن کمانڈر بہاولنگر کو زخمی ملازمین کے بہترین علاج اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے احکامات دئیے گئے۔
عید کی صبح نماز عید کے فوراً بعد گیریژن کمانڈر نے DHQ میں زیر علاج ملازمین کی تیمارداری کی ، اور وہیں سے DPO بہاولنگر سے فون پر اب تک ہونے والی قانونی کارروائی کی تفصیل دریافت کی ۔ کمانڈر کو بتایا گیا کہ تمام ملازمین اس وقت حوالات میں بند ہیں اور واقعے کی سخت ترین FIR کاٹ کر تفتیش جاری ہے ۔
اس کے بعد کمانڈر ہسپتال سے سیدھے تھانہ اے ڈیویژن بہاولنگر گئے تا کہ درج کی گئی FIR اور موجودہ قانونی کارروائی کا جائزہ لے کر فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو مطلع کیا جا سکے ۔
تھانے پہنچ کر کمانڈر نے جب SHO کے آفس میں ملاقات کی تو تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ SHO کی کرسی پر بیٹھا شخص تھانہ اے ڈیویژن کا انچارج نہیں بلکہ مرد مجاہد رضوان عباس ہے اور تھانے کا اصل انچارج ساتھ دوسری کرسی پر براجمان طنزیہ مسکرا رہا ہے ۔ جبکہ باقی تینوں پولیس ملزمان بھی اسی دفتر میں بیٹھے عید کی مٹھائی اور چائے نوش فرما رہے ہیں ۔
AAAAAA AAA
کمانڈر صاحب نے اصلی والے انچارج سے استفسار کیا کہ یہ کون سی حوالات اور کون سی انکوائری چل رہی ہے ۔
بجائے کوئی جواب دینے کے تھانے کے عملے نے اعلیٰ افسر سے بدتمیزی کی اور گالی گلوچ اور دھکم پیل کے ساتھ گیریژن کمانڈر کو تھانے سے باہر نکال دیا گیا ۔ یہاں یہ امر بیان کرنا ضروری ہے کہ فوجی افسر نے اپنے اسٹاف اور اسکارٹ کو ردعمل دینے سے منع کیا اور واپس اپنے آفس آ کر پولیس کے اعلیٰ حکام کو پورے واقعہ سے مطلع کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ پورے معاملے کی فوٹیج تھانے کے CCTV کیمروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
پولیس حکام نے اپنے تھانے کی یقین دہانی پر واقعہ کو مسترد کر دیا ۔
اس کے بعد کمانڈر نے اپنے اعلیٰ حکام کو تمام واقعے سے آگاہ کیا ۔ وہاں سے حکم ہوا کے آپ اپنی ایک ٹیکنیکل ٹیم بھیج کر تھانہ اے ڈیویژن سے CCTV ریکارڈ کی کاپی منگوائیں تا کہ آئندہ کی محکمانہ کارروائی میں استعمال کی جا سکے ، اس سلسلے میں پولیس کو بھی تعاون کے لئے ایک دفتری چٹھی بھجوائی جا چکی ہے ۔
اسی چٹھی کی کاپی کے ساتھ دو بندوں کی ٹیکنیکل ٹیم کو تھانہ اے ڈیویژن بھجوایا گیا ، ٹیم کے پہنچنے پر تھانے کے عملہ نے دوبارہ وہی طوفان بدتمیزی بھرپا کیا ، ٹیم کے دونوں افراد کو زدوکوب کرنے کے بعد حوالات میں ڈال دیا گیا اور CCTV کا بھی سارا ریکارڈ زائل کر دیا گیا۔ ٹیم کے واپس نا پہنچنے پر جب بہاولنگر گیریژن نے تھانے سے رابطہ کیا تو جواب دیا گیا کہ CCTV سسٹم خراب تھا ، اس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ، آپ کے دونوں بندوں نے تھانے کے عملے سے بدتمیزی کی ہے ، اس لئے FIR کاٹ کر ان کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے ، لہٰذا ان کی ضمانت کا بندوبست کریں ۔
AAAAA AAAA
پھر اس کے بعد ، آرمی کے بیس افراد کی ایک ٹیم بھجوائی گئی ، اپنے بندوں کی “ضمانت “اور ضروری “قانونی کارروائی “ کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔ جس کی مزید تفصیلات آپ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں ۔
اس کے بعد کے زیادہ تر حالات سے قارئین واقف ہیں ۔ آپ سب نے ان واقعات کو اپنی اپنی عینک لگا کر دیکھنا ہے ، لہٰذا خود ہی سوال کیجئے ، خود ہی کمنٹس میں جواب لکھئیے ، میرا کام آپ سب کو واقعہ کی اصل کہانی بتانا تھا




No comments:
Post a Comment