Health is Wealth With Dr Javed

Monday, February 27, 2023

کینو کھائیں اور 8بڑی بیماریوں سے نجات میں مدد پائیں

کینو کھانے سےایک نہیں بلکہ 8 بڑی بیماریو

ں سے نجات میں مدد پائیں موسمِ سرما پاکستان کے بالائی علاقوں میں ختم ہونے والا ہے، جبکہ کراچی میں بھی سردی اپنی جھلک دکھا کر دوبارہ آنے کے لئے واپس جا چکی ہے۔ تاہم ان سردیوں کے خوبصورت موسم میں منفرد اور موسمی پھل کینو کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے؟ رسیلا اور غذائیت سے پھرپور کینو وٹامن سی کا خزانہ ہے، اس کے علاوہ اس میں ایسے قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو توانائی بخشنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بھی محفوظ بناتا ہے۔ کینو میں فائبر، پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، وٹامن اے، بی، سی، تھائمن، پوٹاشیم اور فاسفورس جیسی معدنیات پائی جاتی ہیں جو مختلف بیماریوں سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ آئیں آپ کو بتاتے ہیں کہ کینو کھانے سے کون کون سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے؟ 1)۔ بلڈ پریشر ۔۔۔۔ بلڈ پریشر کے لیے مفید بلڈ پریشر آج کل سب سے بڑا مسئلہ ہے، موسمی پھل کینو کھائیں جو بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے بہت فائدہ مند پھل ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی خون کو پتلا کرتا ہے جس سے روانی بحال ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے بلڈپریشر کی کمی یا زیادتی کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔ 2) زہریلے مادوں کا اخراج زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں ماہرین طب روزانہ ایک گلاس کینو کا جوس پینے کا مشورہ دیتے ہیں،اس سے جسم کے اندر موجود زہریلے اور فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں۔ 3) مدافعتی نظام کی مضبوطی۔۔ مدافعتی نظام کی مضبوطی آج کل فلوزکام نزلہ بخا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اس بیماری میں آپ کا مدافعتی نظام مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وٹامن سی انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور بہتر بناتا ہے ، اور کینو وٹامن سی کا خزانہ ہے لہٰذا ایک گلاس جوس یا ایک کینو روزانہ لازمی کھائیں۔ 4) کینسر سے بچاؤ۔ کینسر سے بچاؤ کینو میں اینٹی آکسیڈینٹس پائے جاتے ہیں جو کہ جسم کے سیلز اور ڈی این اے کو ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جبکہ آنتوں کا کینسر بھی سیلز اور ڈی این اے کے ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 5)دل کی بیماری سے بچاؤ۔۔ دل کی بیماریوں کے لیے فائدہ مند ایسے مریض جنہیں دل کا مرض لاحق ہو،وہ سردیوں میں روز کینو کو اپنی غذا میں شامل کریں۔ کینو میں موجود وٹامن سی دل کی شریانوں کو سخت ہونے سے محفوظ رکھتی ہیں اور اس وجہ سے آپ امراضِ قلب سے محفوظ رہتے ہیں۔ 6) جلد اور بالوں کے لیے۔۔ جلد اور بالوں کے لیے مفید یہ بات تو ہم سب کے علم میں ہے کہ وٹامن سی بالوں اور جلد کے لئے بے حد مفید ہے۔ کینو بالوں کی نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ 7) حاملہ خواتین کےلئے ضروری ۔۔ حاملہ خواتین کے لیے مفید کینو میں ناصرف وٹامن سی بلکہ فولک ایسڈ اور وٹامن بی بھی موجود ہوتے ہیں جو حمل کے دوران خواتین کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ تاہم فولک ایسڈ کی کمی بچوں کے پیدائشی وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ 8) دوسری موسمی بیماریوں سے بچاؤ ۔۔ موسمی بیماریوں سے نجات کینو چونکہ موسمی پھل ہے لہٰذا یہ تمام موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔آج کل نزلہ، بخار اور کھانسی ہر دوسرے بندے کو ہے ۔ روز کینو کھائیں اور خود کو ان بیماریوں سے بچائیں۔ 9)۔ہاتھ پاؤں سن ہونے کا علاج۔۔ ہاتھ پاؤں سُن ہونے کا علاج ایک سروے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں نیا خون پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا جوس پئیں یا ایسے ہی کھائیں۔ نوٹ: شوگر کے مریض اپنے معالج سے مشورہ کر کے کینو کا استعمال کریں۔بشکریہ:#healthiswealthwithdrjaved#facebook#page
#orange#kenoon#دلکےامراض#بلڈپریشر#مدافعتی_نظام#سکن_پرابلم

عورت ، معاشرہ اور ہمارا رویہ

عورت، ہمارا معاشرہ اور رویہ خواتین یہ پوسٹ ساری ضرور پڑھے کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو
جاتی ہے؟ کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟ خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے. مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے. اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟ عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اس کی جسم میں وہ تمام صلاحتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہو. لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے. ہمارے معاشرہ میں اکثریت لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے . لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے. یہ سمجھوتا کچھ معاملات میں عورت خود اختیار کرتی ہے جس کے پس منظر میں ماں باپ کی محبت اور گھر کی عزت کے ساتھ جذبہ شکر گزری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے. اور کچھ مواقع پر عورت کو مجبورََ سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے. ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوا جائے اس لیے دوسرے یا تیسرے رشتہ کو ہاں کی سند مل جاتی ہے. پھر عمومًا یہ دعا بھی رخصتی کے وقت دل کی گہرائیوں سے دی جاتی ہے کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے. شادی کے بعد عورت کو اولین فریضہ افزائش نسل سمجھتا جاتا ہے جس کے ساتھ اضافی ذمہ داریوں میں شوہر کی خدمت، سسرالیوں کی نازبرداریاں، اولاد کی تربیت، اور گھر کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے. سات سالوں میں چھے بچوں کی پیدائش اور بقیه ذمہ داریوں کو بجا لاتے عورت کی عمر وقت کی رفتار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کئی منازل طے کر جاتی ہے. اب تیس سال کی لڑکی اپنی پچپن سالہ ماں کی بہن دکھائی دیتی ہے. کیا اس صورت میں مرد عورت کو قابل التفات سمجھے گا جس مرد کی فطرت میں خوبصورتی کی طرف جھکاؤ کا مادہ شامل ہے. اب یہ عورت مرد کے لیے ایک زمہ داری ہے اس کی ضرورت نہیں. وہ اس کے ساتھ گھومنا پسند نہیں کرے گا. ہنسی مذاق کا ذوق ختم، تفریح کے مواقع عید کے چاند کی طرح ہو جاتے ہیں. عورت جسمانی طور پر تو بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن کیا اس کا دل اس کی روح بھی بوڑھی ہوتی ہے. کیا اس کی دل میں وہ سب خواہشات اور امنگیں کروٹیں نہیں بدلتی جو جوان سال مردوں کے دلوں میں ہوتی ہیں. ہمارے سماج کے لامتناہی المیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عورتوں کے مسائل کو طہارت، پاکیزگی، مباشرت، مخصوص ایام اور بچوں کی پیدائش تک محدود سمجھا جاتا ہے. اور ہمارے تمام تر " تحقیق " انھی مسائل کے متعلق ہوتی ہے. عورت کے جذبات، خواہشات ، نفسیات اور ضروریات کو مسائل کی سند حاصل نہیں. ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ گھر میں بیس سال تک بابا کی لاڈلی کہلائے جانے والی لڑکی شادی کے پانچ سالوں میں بابا کی لاڈلی کے منسب سے اتر کر خاندان چلانے والی بوڑھی کے درجہ پر فائز ہو جاتی ہے. ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے آزادی نہیں چاہتی ہے. یہ مرد کے ساتھ جینا چاہتی ہے. اس کے شانہ بشانہ زندگی کے سب رنگ دیکھنا چاہتی ہے پس مردوں پر لازم ہے زندگی کی گاڑی خوشی سے چلانے کے لیے عورت کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا ضروری ہے عورت گھر کا وزیر کی شب ل کہ شو وہ تمام( جائز) خواہشات جو وہ اپنے لیے رکھتے ہیں ان میں خواتین کو بھی شامل کریں. صرف اچھا کما لینا ہی ذمہ داری نہیں اچھی اور پرمسرت زندگی کے لیے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے

Friday, February 24, 2023

پرسکون نیند کے لیے بہترین قہوہ




بھر کی تھکان کو دور کرنے کے لئے اچھی رات کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب زیادہ تھکان ہو جائے تو نیند روٹھ جاتی ہے۔


اچھی صحت کے لئے 7 سے 8 گھنٹوں کی نیند کی ضرورت ہے، اگر آپ کو بھی رات کی نیند میں دشواری کا سامنا ہے تو درج ذیل اجزاء سے تیار کردہ قہوہ ضرور نوش کریں۔


جائفل :

 جائفل اور اس کا تیل ہمارے اعصاب کو پُرسکون کرنے اور جسم کو تناؤ سے نجات دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر رات سونے سے قبل ہلدی دودھ میں 1 چٹکی جائفل پاؤڈر شامل کرلیں تو نہ صرف جلد بلکہ گہری نیند سو سکیں گے۔


پودینا: 

پودینے کے پتے تناؤ اور اضطراب کو دور کرنے میں 

مدد

 فراہم کرتے ہیں۔ یہ آپ کے پٹھوں کو آرام پہنچا کر سونے میں مدد کرتا ہے۔ بستر پر لیٹنے سے پہلے ایک کپ پودینے کی چائے پئیں اور رات کی اچھی نیند کا لطف اٹھائیں۔


سونف: 

سونف نظام ہاضمہ کو بہتر کرکے پُرسکون نیند میں مدد دیتی ہے اور بے خوابی کا علاج ہو سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین اکثر رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس سونف کا پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔


اب آپ ان تمام جڑی بوٹیوں کو کی چائے میں استعمال کرکے پُرسکون نیند سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اگلے دن ترو تازہ بیدار ہوکر دن بھر کے کام انجام دے سکتے ہیں۔


قہوے کی ترکیب:


آپ نے صرف کرنا یہ ہے کہ 2 کپ پانی میں جائفل پاؤڈر، ایک عدد دار چینی، پودینہ اور ایک چمچ سونف شامل کرکے اتنا پکائیں کہ پانی آدھا رہ جائے پھر اسے چھان کر مزیدار قہوہ نوش کریں۔


Wednesday, February 8, 2023

کلونجی کے فوائد اور استعمال کا صحیح طریقہ

کلونجی کے استعمال کا درست طریقہ جان لیں، اس کا استعمال کن کن طریقوں سے کیا جاسکتا ہے اور اس کا قہوہ پینے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیں اس طرح کلونجی کا استعمال کرنے آپ کاقوت مدافعتی نظام مظبوط ہو گا اور آپ تندرست ہوں گے۔ساتھ ساتھ آپ کو بیماریاں بھی نہیں لگیں گی۔ کلونجی میں ویٹامنز، امینیو ایسڈز، پروٹینز، فیٹی ایسڈز ، آئرن، پوٹاشیم، کیلشیئم اور طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ Thymoquinone پایا جاتا ہے جن کی وجہ سے کلونجی کینسر جیسے مرض میں بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔ کھانسی، قبض، یرقان، سر درد، وزن میں کمی، یاد داشت تیز، بالوں کے مسائل، کیل مہاسے دور کرنے، جوڑوں کا درد، بلڈ پریشر، دانت کا درد، گردے، کینسر اور دل کی صحت ان تمام مسائل میں کلونجی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کلونجی کو استعمال کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے، کیونکہ ہر شخص اپنے حساب سے کھاتا ہے اور پھر فائدہ نہ ہونے کی صورت میں اسے بیکار سمجھ بیٹھتا ہے۔ ٭ کلونجی کے سات دانے یا ایک چمچ ہی استعمال کریں اس سے زیادہ نہ لیں۔ ٭ نیم گرم پانی کے ساتھ کلونجی قہوے کی طرح پکا کر استعمال کریں۔ اس سے آپ کے پھیپھڑوں کو بھی طاقت ملتی ہے اور کھانسی سمیت سانس اور گلے کے مسائل بھی کنٹرول ہوجاتے ہیں۔ ٭ سلاد میں بھی اس کے سات دانے پیس کر نمک کے طور پر ڈال کر استعمال کرلیں۔ ٭ کسی بھی جوس یا شیک میں اس کے سات ہی دانے ڈال لیں۔ ٭ گھر میں بنے سالن یا چاول کے ساتھ بھی کلونجی پاؤڈر ڈال کر کھائیں۔ ٭ چائے اور گرین ٹی کے ساتھ بھی اس کو شامل کرکے پی سکتے ہیں۔ ٭ کھیرا، ککڑی، تربوز، خربوزہ، امرود، نارنگی، انار، چیکو غرضیکہ ہر پھل کے ساتھ اس کو پیس کر چھڑک لیں اور استعمال کریں۔ نوٹ : یہ ایک عام معلومات ہے مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ہمارا پیج لائیک کریں۔شکریہ

The Secret to Natural Weight Loss: A Scientific Analysis of Garlic, Ginger, Cloves, and Honey

By: Dr. Javied (Health Is Wealth) In an era where obesity has become a global epidemic, people in countries like the USA and Canada are incr...