Tuesday, January 31, 2023
ایک یہودی چرواہے کا عجیب وغریب واقعہ ایک یہودی چرواہے کا عجیب وغریب واقعہ
ایک چرواہے کا عجیب واقعہ
غزوہ خیبر کے موقع پر ایک چرواہا حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں آیا ، وہ یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، اس چرواہے نے
جب دیکھا کہ خیبر سے باہر مسلمانوں کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے، اسکے دل میں خیال آیا کہ میں جا کر ان سے ملاقات کروں۔ اور دیکھوں کہ یہ
مسلمان کیا کہتے ہیں اور کیا
کرتے ہیں؟ چنانچہ بکریاں چراتا ہوا مسلمانوں کے لشکر میں پہنچا اور ان سے پوچھا کہ تمہارے سردار کہاں ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے بتایا کہ ہمارے سردار حضور ﷺ اس خیمے کے اندر ہیں۔ پہلے تو اس چرواہے کو انکی باتوں پر یقین نہیں آیا' اس نے سوچا کہ اتنے بڑے سردار ایک معمولی
سے خیمے کے اندر
کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ اسکے ذہن میں یہ تھا کہ جب آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں تو بہت ہی شان و شوکت اور ٹھاٹ باٹ کیساتھ رہتے ہونگے لیکن وہاں تو کھجور کے پتوں کی چٹائی سے بنا ہوا خیمہ تھا۔ خیر وہ اس خیمے کے اندر آپ سے ملاقات کے لئے داخل ہوا، اور آپ سے ملاقات کی ۔ اور پوچھا کہ آپ کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ اور کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ حضور اقدس ﷺ نے اسکے سامنے اسلام اور ایمان کی دعوت رکھی۔
اور اسلام کا پیغام دیا۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں اسلام کی دعوت قبول کرلوں تو میرا کیا انجام ہوگا ؟ اور کیا رتبہ ہو گا ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: اسلام لانے کے بعد تم ہمارے بھائی بن جاؤ گے اور ہم تمہیں گلے سے لگا ئیں گے۔ اس چرواہے نے کہا کہ آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں میں کہاں اور آپ کہاں! میں ایک معمولی سا
چرواہا ہوں ۔ اور میں ایک سیاہ فام انسان ہوں، میرے بدن سے بدبو آ رہی ہے۔ ایسی حالت میں آپ مجھے کیسے گلے سے لگا ئیں گے ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ : " ہم تمہیں ضرور گلے سے لگائیں گے ۔ اور تمہارے جسم کی سیاہی کو اللہ تعالی تابانی سے بدل دیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ
تمہارے جسم سے اٹھنے والی بدبو کو خوشبو سے تبدیل کر دیں گے ۔ یہ باتیں سن کروہ فوراًمسلمان ہو گیا۔ اور کلمہ شہادت: (اشهد ان لا اله الا الله واشهدان
محمدا رسول الله ) پڑھا۔ پھر حضور اقدس ﷺ سے پو چھا کہ یا رسول اللہﷺ اب میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا کہ تم ایسے وقت پر ایمان لائے ہو کہ نہ تو اس وقت کسی نماز کاوقت ہے کہ تم سے نماز پڑھواؤں اور نہ
ابھی روزہ کا زمانہ ہے کہ تم سے روزے رکھواؤں زکوۃ تم پر فرض نہیں ہے اس وقت تو صرف ایک ہی عبادت ہو رہی ہے جو تلوار کی چھاؤں میں انجام دی جاتی ہے وہ ہے " جہاد فی سبیل اللہ ۔ اس چرواہے نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں اس جہاد میں شامل ہو جاتا ہوں لیکن جو
شخص جہاد میں شامل ہوتا ہے اسکے لئے دو میں سے ایک صورت ہوتی ہے غازی یا شہید تو اگر میں اس جہاد میں شہید ہو جاؤں تو آپ میری کوئی ضمانت لیجئے حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ
اگر تم اس جہاد میں شہید ہو گئے تو اللہ تعالی تمہیں جنت میں پہنچادیں گے اور تمہارے جسم کی بدبو کو حوشبو سے تبدیل فرمادیں گے اور تمہارے چہرے کی سیاسی کو سفیدی میں تبدیل فرمادیں گئے۔ چونکہ وہ چرواہا یہودیوں کی بکریاں چراتا ہوا وہاں پہنچا تھا۔ اس لئے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ : " تم یہودیوں کی
جو بکریاں لے کر آئے ہو۔ ان کو جا کرواپس کرو اس لئے کہ یہ بکریاں تمہارے پاس امانت ہیں ۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ جن لوگوں کیساتھ جنگ ہو رہی ہے۔ جن کا محاصرہ کیا ہوا ہے ان کا مال غنیمت ہے۔ لیکن چونکہ وہ چرواہا بکریاں معاہدے پر لیکر آیا تھا اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ پہلے وہ بکریاں واپس کر کے آؤ۔ پھر
آ کر جہاد میں شامل ہونا ۔ چنانچہ اس چرواہے نے جا کر بکریاں واپس کیں۔ اور واپس آکر جہاد میں شامل ہوا اور شہید ہو گیا ۔
جب جنگ ختم ہو گئی تو حضور اقدسﷺ لشکر کا جائزہ لینے گئے۔ ایک جگہ آپﷺ نے دیکھا کہ صحابہ کرامؓ کا مجمع اکٹھا ہے۔ آپ ﷺ قریب پہنچے تو ان سے کہا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ کرامؓ نے فرمایا جو لوگ جنگ میں شہید ہو گئے ہیں ان میں سے ایک آدمی ایسا بھی ہے
کہ جس کو ہم میں سے کوئی نہیں جانتا آپ ﷺنے فرمایا کہ مجھے دکھاؤ جب آپ نے دیکھا تو فرمایا کہ : " تم اس شخص کو نہیں پہچانتے مگر میں اس شخص کو پہچانتا ہوں۔ یہ چرواہا ہے اور یہ وہ عجیب وغریب بندہ ہے جس
نے اللہ کی راہ میں ایک بھی سجدہ نہیں کیا۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے سیدھا اسکو جنت الفردوس میں پہنچا دیا ہے۔ اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ملائکہ اسکو غسل دے رہے ہیں۔ اور اسکی سیاہی سفیدی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اور اسکی بدبو خوشبو میں تبدیل ہو گئی ہے۔
(بحوالہ اصلاحی خطبات)
اندازہ کیجئے اگر کچھ عرصہ پہلے اس چرواہے کو موت آجاتی تو سیدھا جہنم میں چلا جاتا۔ اور اب اس حالت میں موت آئی کہ
ایمان لا چکا ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کا غلام بن چکا ہے تو اب اللہ تعالی نے اتنا بڑا انقلاب پیدا فرما دیا۔اس لئے فرمایا۔۔" العبرة بالخواتیم" اعتبار خاتمے کا ہے۔ اس لئے بڑے بڑے لوگ لرزتے رہے۔ اور یہ دعا کرتے رہے کہ یا اللہ حسن خاتمہ عطا فرما ئے۔ ایمان پر خاتمہ عطا فرمائے کس بات پر انسان ناز کرے فخر کرے، اور اترا ئے ۔ اس لئے کہ
کیا معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ کسی کو بھی حقیر مت سمجھو۔ انبیاء علیہم السلام کا شیوہ یہ رہا ہے کہ کبھی گالی کا جواب بھی گالی سے نہیں دیا ۔ حالانکہ شریعت نے اسکی اجازت دی ہے کہ جتنا ظلم تم پر کیا جائے ، تم بھی اتنا بدلہ لے سکتے ہو۔ لیکن انبیاء علیہم السلام نے کبھی گالی کا بدلہ گالی سے نہیں دیا ۔ قوم
کی طرف سے نبی کو کہا جارہا ہے کہ
: (إِنَّا لَرَكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَذِبِينَ) " تم بیوقوف ہو ۔ حماقت میں مبتلا ہو ۔ اور ہمارا
خیال یہ ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ ہم جیسا کوئی ہوتا تو جواب میں کہتا کہ تم احمق اور تمہارا باپ احمق لیکن نبی کا جواب یہ تھا کہ اے میری قوم میں بیوقوف نہیں ہوں۔ بلکہ میں پروردگار کی
طرف سے رسول بناکر بھیجا گیا ہوں ۔
اللہ تعالی ہمیں سمجھ عطا فرمائے آمین....
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
The Secret to Natural Weight Loss: A Scientific Analysis of Garlic, Ginger, Cloves, and Honey
By: Dr. Javied (Health Is Wealth) In an era where obesity has become a global epidemic, people in countries like the USA and Canada are incr...
-
How important dates eating in Ramazan After prolonged periods of hunger or fasting, our body directs us toward sources with high carbohydra...
-
اسلام کو AAAA AAAAA شادی ہال ، نکاح اور ولیمہ کی تقریب https://getaizenpower24.com/start/index.php#aff=Javedahmedanjum اسلام...
-
The liver performs numerous important functions in the body, including: 1. Detoxification: The liver helps to break down harmful substances...


No comments:
Post a Comment