Health is Wealth With Dr Javed

Tuesday, June 18, 2024

قربانی کا گوشت کھانے سے پہلے احتیاطی تدابیر


 عید کے بعد بیماریوں کے حملے





 اکثر اوقات جلدی جلدی کھانے کے چکر میں لوگ بغیر اچھی طرح چبائے گوشت نگلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں وہ حلق میں پھنس جاتا ہے ،اس سے انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کہیں کہیں قربانی کا گوشت اناڑی قصائی بھی بناتے ہیں اس لئے ہڈیوں کا چورا کر ڈالتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی ہڈیاں بھی گلے میں پھنس سکتی ہیں یا منہ اور گلے کو زخمی کر سکتی ہیں لہٰذا کوشش کریں کہ گوشت اچھی طرح صاف کرکے پکائیں اور آرام آرام سے چبا کر کھائیں۔پھر اس بات پر خاص توجہ رکھیں کہ جانور کو قربان کرنے کے بعد اس کے جسم سے تمام خون اچھی طرح خارج ہو جائے ۔

AAAAA AAAA 

بے احتیاطی، بد پرہیزی اور حفظان ِصحت کے اصولوں سے لاعلمینارمل انسان کو ایک دن میں ایک سو گرام سے زیادہ گوشت استعمال نہیں کرنا چاہئے

 عید قرباں یقینی طور پہ کھانے پینے سے منسوب ہے اور خاص طور پہ جب اس کا نام ہی بکرا عید ہے تو ایسے میں ہم گوشت کا تصور کیسے ذہن سے نکال سکتے ہیں۔ عید سے قبل آ خری دو چار ایام میں توہر طرف قربانی کے جانوروں کی بہار نظر آتی ہے۔ جن گھروں نے قربانی کیلئے جانور خریدا ہوتا ہے وہ پیشگی مختلف اقسام کی ڈشز کا پروگرام مرتب کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی سری پائے کھانے کا منتظر ہے 

AAAA AAAAA 

تو کوئی ران بھون کر کھانے کی تیاری کر رہا ہے ۔کہیں بار بی کیو کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اس کے اہتمام کیلئے ہمیں اس عظیم قربانی کی اصل روح کو فراموش نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ زیادہ گوشت کھا کر ہم بہت سے امراض کو بھی دعوت دے دیتے ہیں۔

عید سے پہلے اور قربانی کرتے وقت ہمیں خصوصاً کانگو فیور سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے کانگو فیور ایک جان لیوا مرض ہے لہٰذا اس بات کا خیال رکھیں کہ جانور چیچڑوں سے پاک ہونا چاہئے بچوں کو قربانی کے جانوروں سے دور ہی رکھنا چاہئے۔ قربانی کے وقت بھی جانوروں کے خون سے بچنا چاہئے اور اس کی آلائشوں کو سڑکوں پر نہیں پھینکنا چاہئے بلکہ اچھی طرح شاپنگ بیگز میں ڈال کر ٹھکانے لگانا چاہئے خون کو دھو کر فوراً صاف کر دینا چاہئے۔ گوشت کو احتیاط سے دھو کر پکانا چاہئے کیونکہ پکانے سے کانگو فیور کے وائرس ختم ہو جاتے ہیں۔ عید قربان کے موقع پر عوام کی ایک بڑی تعداد سرکاری، پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس پر پہنچ جاتی ہے ان میں اکثریت ایسے مریضوں کی ہوتی ہے جو زیادہ گوشت خوری کے سبب اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں اور عید کے بعد بھی بیماریوں کے حملے جاری رہتے ہیں۔ گوشت زیادہ کھانے کی وجہ سے بدہضمی، متلی، الٹی، پیٹ درد، دست، بلند

AAAA AAAAA 

 فشارخون، یورک ایسڈ کی زیادتی جیسی بیماریاں سامنے آتی ہیں۔ بعض اوقات جلدی جلدی کھانے کے چکر میں لوگ بغیر اچھی طرح چبائے گوشت نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں حلق میں گوشت پھنس جاتا ہے جس سے انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ قربانی کا گوشت اناڑی قصائی بھی بناتے ہیں اس لئے ہڈیوں کا چورا کر ڈالتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی ہڈیاں بھی گلے میں پھنس سکتی ہیں یا منہ اور گلے کو زخمی کر سکتی ہیں لہٰذا کوشش کریں کہ گوشت اچھی طرح صاف کرکے پکوائیں اور آرام آرام سے چبا کر کھائیں۔ قربانی کا گوشت صحت کیلئے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ اس مقصد کیلئے چند باتوں کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے سب سے پہلے بات جو ذہن میں رکھنی از حد ضروری ہے کہ ایسے جانور کا انتخاب کریں جو صحت مند ہو کیونکہ بیمار جانور کا گوشت صحت کے لئے بہت سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ پھر اس بات پر خاص توجہ رکھیں کہ جانور کو قربان کرنے کے بعد اس کے جسم سے تمام خون اچھی طرح خارج ہو جائے لیکن عید کے موقع پر اس بات پر کم توجہ دی جاتی ہے کیونکہ ایک تو اس موقع پر قصائی حضرات کے پاس وقت کم ہوتا ہے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عید کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ جانور ذبح کرکے مال بنایا جائے۔ دوسرے گھر والوں

AAAA AAAAA 

 کو بھی گوشت کا انتظار ہوتا ہے لہٰذا ان کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد گوشت بنا کر ان کے حوالے کردیا جائے مگر یاد رکھیں کہ جب خون گوشت کے اندر رہ جاتا ہے تو گوشت جلدی خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔

ایک اور بات یاد رکھیں کہ قربانی کے گوشت کو فوراً نہیں پکانا چاہئے کیونکہ اس سے بخار اور انفیکشن ہو سکتی ہے کوشش کریں کہ گوشت کو کم از کم چھ گھنٹے تک ہوا دار اور سائے والی جگہ پر رکھیں جس سے گوشت میں خون بھی اچھی طرح نکل جائے گا اور نمی بھی کم ہو جائے گی۔ اس طرح آپ انفیکشن اور دوسری بیماریوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اس طرح آپ اس گوشت کو فریز بھی کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لوڈشیڈنگ ایک عذاب کی طرح مسلط کر دی گئی ہے جس سے فریز کی ہوئی اشیاء خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے کیونکہ گوشت ایک ایسی چیز ہے جو بہت جلد خراب ہو جاتا ہے اس سے گوشت میں زہریلے مادے اور جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے نہایت

AAAA AAAAA 

 مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ویسے بھی گوشت کو دو ہفتے سے زیادہ فریز کر کے نہیں رکھنا چاہئے اس سے زیادہ رکھنے پر نہ صرف یہ کہ گوشت کی غذائیت کم ہو جاتی ہے بلکہ وہ مضر صحت بھی ہو جاتا ہے۔ فریز کئے ہوئے گوشت کو فوراً نہیں پکا لینا چاہئے بلکہ اس کو فریزر سے نکال کر کم از کم چھ گھنٹے تک نیم گرم پانی میں بھیگا رہنے دیں اور پھر اس کو اچھی طرح دھو کر پکایا جائے اس گوشت کو بہت اچھی طرح پکانا ضروری ہے تاکہ اس کے تمام جراثیم بھی مر جائیں اور وہ اچھی طرح گل بھی جائے اس مقصد کیلئے کم درجہ حرارت پر زیادہ دیر تک پکانے سے مقصد حل ہو جاتا ہے۔

ایک نارمل اور صحت مند انسان کو ایک دن میں سو گرام سے زیادہ گوشت استعمال نہیں کرنا چاہئے ورنہ صحت کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر پہلے ہی صحت کے مسائل کا سامنا ہے تو ان میں زیادتی ہو جائے گی کیونکہ عید کے موقع پر عموماً گوشت کی فراوانی ہوتی ہے اس لئے وہ مریض جو عام طور پر اپنی بیماریوں کی وجہ سے گوشت کم سے کم استعمال کرتے ہیں وہ بھی عید کے موقع پر بہت زیادہ گوشت کا استعمال کر لیتے ہیں جس سے ان کی بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جو بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہوتا ہے بلڈ پریشر،خون جگر، گردے ، شوگر ، دل جوڑوں کے امراض اور یورک ایسڈ کے مریضوں کو گوشت احتیاط سے کھانا چاہئے اور کم سے کم مقدار میں کھانا لازم ہے۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو بھی تلے ہوئے اور بھنے ہوئے گوشت سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ان میں مرچیں مصالحے بہت تیز ہوتے ہیں جس سے جگر کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو بھی احتیاط کرنا لازم ہے کیونکہ سرخ گوشت میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لئے ایک تو کولیسٹرول بڑھنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ چکنائی سے جسمانی توانائی پوری ہو جاتی ہے اور شوگر کا لیول خون میں بڑھ جاتا ہے۔ سرخ گوشت میں موجود چکنائیوں کا دل کی خون کی نالیوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے یہ چکنائی خون کی نالیوں میں جم جاتی ہے جس سے نالیوں کا سوراخ تنگ ہو جاتا ہے اور دل کے درد اور دل کے دورے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ جب معدے میں گوشت کی مقدار زیادہ ہو جانے کی وجہ سے خون معدے میں زیادہ مقدار میں آ جاتا ہے جس سے دل کو خون کی سپلائی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس سے دل کے درد یعنی انجائنا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت میں فائبرز بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اس لئے جو لوگ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں کینسر ہونے کا خطرہ بیس فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کینسر میں لبلبہ کا کینسر، آنتوں کا کینسر، بریسٹ کینسر زیادہ گوشت سے منسلک کئے جاتے ہیں۔ ہارمونز کی مقدار بھی گوشت میں زیادہ ہوتی ہے جس سے گونا گوں مسائل جنم لیتے ہیں اور بچوں میں بلوغت چھوٹی عمر میں ہی ہو جاتی ہے جبکہ جسم میں سے زیادہ پروٹینز کو خارج کرنے میں گردے اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا زیادہ گوشت کھانے سے گردوں پر دبائو بڑھ جاتا ہے جس سے گردوں کے فعل میں نہ صرف خلل پیدا ہوتا ہے بلکہ رینل فیلیور کا خطرہ بھی رہتا ہے اس کے علاوہ زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے جسم کیلیشیم کی زیادہ مقدار خارج کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں اور ہڈیوں کے بھر بھرے پن کی بیماری ہونے لگتی ہے۔

عید کے موقع پر سب سے بڑی اور اہم غلطی جو کی جاتی ہے وہ سب سے پہلے کلیجی کا پکانا ہے۔ قصائی جانور حلال کرنے کے بعد سب سے پہلے کلیجی اور دل و گردے وغیرہ نکال کر پکانے کیلئے دے دیتا ہے لیکن ایسا کرنا صحت کے لئے ٹھیک نہیں، کلیجی کو بھی کم از کم چھ گھنٹے تک رکھنے کے بعد پکانا چاہئے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کلیجی کا کام ایک قسم کے سٹور ہائوس کا ہے ۔اس میں وٹامنز نمکیات پروٹین اور چکنائی سٹور ہوتی ہے ،یہ ہمارے اعصابی نظام جلد اور بینائی کیلئے فائدہ مند ہے اس سے یادداشت بہتر ہونے میں مدد ملتی ہے اس سے خون پیدا ہوتا ہے، کھلاڑیوں میں اس کے استعمال سے توانائی اور اسٹیمنا میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس میں وٹامن بی تھری پایا جاتا ہے جس سے شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ اگر جسم میں بی تھری کا لیول بڑھ جائے تو مختلف جلدی امراض پیدا ہو جاتے ہیں، جن میں جلد کا کھردرا پن، ایکزیما اور جلد پر سرخی ہونا شامل ہیں۔

گوشت کو پکانے سے پہلے اچھی طرح دھونا از حد ضروری ہے کیونکہ اس پر بال وغیرہ لگے ہوتے ہیں اور خون چپکا ہوتا ہے اس کے علاوہ گوشت کو اچھی طرح دیکھنا چاہئے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے ہیڈیوں کے ٹکڑے وغیرہ نہ ہوں جو کھانے کے دوران منہ اور حلق کو زخمی نہ کر دیں۔ گوشت کو ہلکی آنچ پر دیر تک پکانا چاہئے تاکہ وہ اندر تک گل جائے کیونکہ جراثیم زیادہ تر گوشت کی بوٹیوں کی اندرونی تہوں میں پائے جاتے ہیں جو بخار اور پیرا ٹائیفائیڈ کے ساتھ ساتھ معدے کی انفیکشن کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچا گوشت ہضم ہونے میں بھی بہت زیادہ وقت لیتا ہے۔ عید کے موقع پر اور اس کے علاوہ بھی ہم لوگ بار بی کیو بہت شوق سے کرتے اور کھاتے ہیں لیکن یہ صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ کوئلوں پر سیکنے کی وجہ سے گوشت ایک تو مل کر تھوڑا کالا ہو جاتا ہے دوسرے اس کو دھواں لگتا ہے جس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ گوشت مضر صحت ہو جاتا ہے۔ اگر بار بی کیو کرنا ہی ہے تو کوئلوں اور گوشت کے درمیان پندرہ تا بیس سینٹی میٹر کا فاصلہ ہونا چاہئے اس طرح ہلکی اور یکساں آٰنچ پر گوشت اندر تک گل جائے گا جو ہماری صحت کیلئے از حد ضروری ہے اس کے ساتھ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا صحت کو بحال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

The Secret to Natural Weight Loss: A Scientific Analysis of Garlic, Ginger, Cloves, and Honey

By: Dr. Javied (Health Is Wealth) In an era where obesity has become a global epidemic, people in countries like the USA and Canada are incr...