AA
AAAA
میں نے کہا ڈرو نہیں
میں اکیلا ہی ہوں
وہ خاموش بیٹھی رہی
پھر کہنے لگی آپ مجھے سگریٹ سے اذیت تو نہیں دو گے نا
میں مسکرایا بلکل بھی نہیں
پھر اس نے ایک لمبی سانس بھری
آپ میرے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں کریں گے نا
آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ برا نہ کرنا پلیز
وہ بہت خوبصورت تھی معصومیت اس کی باتوں سے ٹپک رہی تھی
پھر بھی خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پہ مجبور تھی
وہ نہیں جانتی تھی میں کون ہوں
میں نے پوچھا کھانا کھایا ہے کہنے لگی نہیں
میں ہوٹل کے سامنے رکا ہوٹل والا مجھے جانتا تھا
اس نے جلدی سے کھانا پیک کیا مجھے دیا
میں آفس کی طرف چل دیا
چوکیدار نے دروازہ کھولا
رات کے 11 بج رہے تھے سب اپنااپنا کام کر رہے تھے
وہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی
میں نے کھانا پلیٹ میں ڈالا
اسے کہا ہاتھ دھو لو
وہ کہنے لگی میں نے نہیں کھانا
میں نے پیار سے کہا ڈرو نہیں کچھ نہیں ہو گا
وہ ہاتھ دھو کر آئی
میرے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی
جب کھانا کھا لیا تو کچھ کھانا بچ گیا کہنے لگی یہ میں گھر لے جا سکتی ہوں میں مسکرایا بلکل بھی نہیں
وہ چپ ہو گئی برقع اتارنے لگی میں نے کہا رک جائیں
میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں
وہ حیران تھی
میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی جلدی سے اہنا کام کریں مجھے واپس چھوڑ آئیں
میں نے کہا نہیں پوچھوں گا کیوں کرتی ہو ایسا
کیوں بیچتی ہو جسم
بس اتنا کہوں گا چھوڑ سکتی ہو کیا یہ سب
وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی آپ پاگل لگ رہیں مجھے
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
ہاں پاگل ہی ہوں میں
سب پاگل ہی سمجھتے ہیں مجھے
وہ کہنے لگی اگر کچھ کرنا نہیں ہے تو مجھے واپس چھوڑ کر آو
میں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
پھر پرس سے 10h نکالے اس کے ہاتھ پہ رکھے
وہ حیران تھی کہنے لگی میں نے نہیں لینے
آپ کیوں دے رہے ہیں یہ پیسے مجھے
میں نے اس کے چہرے پہ ایک تھکن محسوس کی تھی
وہ اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی
بار بار کہہ رہی تھی مجھے بس واپس چھوڑ کر آو
مجھے ڈر لگ رہا ہے
میں نے اسے یقین دلایا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے
اچھا بتاو نا بہت درد دیا نا زندگی نے
یہ سننا تھا
اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں
جیسے کوئی قیامت گر گئی ہو اس پہ
میں سمجھ چکا تھا کوئی بہت بڑا درد لیئے گھوم رہی ہے دروازہ کھولا کانپتی آواز میں بولی مجھے چھوڑ کر آو واپس
میں نے اسے بیٹھنے کا کہا
بتایا میرا نام .........ہے ڈرو نہیں
خود کو محفوظ سمجھو
اسے جب یقین ہو گیا پریشانی والی کوئی بات نہیں تو
بتانے لگی
شوہر مر گیا تین بیٹیاں ہیں
سسرال والوں نے نکال دیا
ماں باپ فوت ہو چکے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں ماموں کے گھر آئی
ماموں کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی
میں نے جب مامی کو بتایا تو سب نے مجھے غلط کہا
مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا
دور کے رشتہ دار نے ایک بڈھے سے میری شادی کروائی اس کے بھی بچے تھے
اس کے بچوں نے مجھے بہت ذلیل کیا
پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا
بیٹیوں کو لیئے در بدر لیئے بھٹکنے لگی
نہ چھت تھی نہ روٹی تھی
بھوک افلاس تھی
سڑک پہ کھڑی تھی ایک صاحب آئے کہنے لگے ایک گھنٹے کے 5 ہزار دوں گا
نہ چاہتے ہوئے ماں کی ممتا حالات کی ستائی ہوئی کیا کرتی آخر چل دی
اب ہر روز جسم بیچتی ہوں کرائے گا گھر لیا ہے بیٹیوں کو اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں
کیا کروں بہت بار سوچا خود کشی کر لوں لیکن بیٹیوں کو دیکھ کر ہمت نہیں ہوتی
وہ رو رہی تھی میں زمانے کی بے حسی محسوس کر رہا تھا
اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اس کہا ....... تمہارا بھائی ہے آج سے
تم اپنی بیٹیوں کو لو اور آفس کے اوپر والے ایک روم میں رہو
وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی
اس کے گھر پہنچا
بیٹیاں سوئی ہوئی تھیں بہت پیاری تھیں
گود میں اٹھایا دل کو سکون ملا
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی
مجھے کہنے لگی آپ فرشتے ہیں
آپ کون ہیں
میں اسے اپنے آفس لے آیا
وہ دعائیں دینے لگی جھولی اٹھا کر نہ جانے کتنی دعائیں دیتی رہی میں نے اسے کہا جا کر سو جائیں
اپنے آفس روم میں گیا میرے سامنے سے وہ چہرہ گزرا جو ایک لڑکی اپنے شوہر سے جھگڑا رہی تھی
اسے کہہ رہی تھی مجھے طلاق دو تم کو میری قدر ہی نہیں ہے وہ اپنا گھر جلا رہی تھی اپنی بے وقوفی کی وجہ سے
وہ بیچاری کیا جانے زمانے کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں
زمانے کا ڈسنا کیا ہوتا ہے میں بتانا چاہتا تھا اپنا گھر جان بوجھ کر اجاڑنے والی لڑکیوں کو طلاقیں لینا آسان ہے اس کے بعد جینا موت ہے
کبھی ساس کا رونا کبھی نند کا سیاپا کبھی جھٹانی سے لڑائی یہ ہر گھر کی بات ہے
اس کا ہرگز مطلب طلاق لینا یا گھر اجاڑنا نہیں ہے کم عمری میں ہی میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں ہزاروں آنکھوں کے آنسو دیکھ کر
اپنے گھروں کو آباد رکھو
خدا کی قسم ایک وقت آتا کے نا بھائی حال پوچھتے ہیں نا سگی بہنیں
سب وقت کے ساتھ چہرے کے نقاب بدل لیتے ہیں
...... ہر جگہ ہر کسی کو تھامنے کے لیئے کھڑا نہیں ملے گا ہاں میری قلم شاید کسی کو بربادی سے پہلے بچا لے
ہمسفر کیسا بھی ہے وہ تمہاری ڈھال ہے
شادی کے بعد سگے بھائی سے خرچہ لینا بھی بھیگ مانگنے جیسا لگتا ہے
میری باتیں وہ عورت سمجھ سکتی ہیں جس پہ ایسا کچھ گزرا یے
ہمسفر جیسا بھی ہے وہ تمہارا لباس ہے یاد رکھنا زمانے کے لیئے تم صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہو
وہ زمانے گزرے مدت ہوئی جب رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا
اب رشتوں سے کھیلا جا سکتا ہے ہوس پوری کی جا سکتی ہے پھر پھینک دیا جاتا ہے
ہاں قسمت میں لکھا ہم بدل نہیں سکتے لیکن قسمت خود لکھ بھی سکتے ہیں صبر برداشت اور جھک کر
نہ جانے کتنی عورتیں صرف اس لیئے گھر اجاڑ لیتی ہیں کے اس کا شوہر اس کو ٹائم نہیں دیتا ہاں یہ شکوہ کرنا درست ہے لیکن کیا گارنٹی ہے اس کے بعد زندگی میں آنے والا اس سے بھی زیادہ برا ہو
صرف ایک زندگی ہے اس کو محبت پیار سمجھداری کے ساتھ گزار لو
میں اس معاشرے کو معاشرہ نہیں کہتا بلکہ بدبودار سماج کہتا ہوں
یہاں جگہ جگہ پہ لٹیرے کھڑے ہیں عزتوں کے خواہشوں کے بھرم کے بھروسے کے اعتبار کے...
بس آخر پہ ایک بات کہوں گا
اگر تم کو پیٹ بھرنے کے لیئے چاردیواری سے باہر نہیں جانا پڑ رہا
اگر تم کو جسم نہیں بیچنا پڑ رہا
اگر تمہارے سر پہ چادر ہے
اگر لوگ تمہارا سودا نہیں کرتے
اگر لوگ تم کو وحشیہ نہیں
AA
AAAA
میں نے کہا ڈرو نہیں میں اکیلا ہی ہ
کہتے
اگر تمہارا دامن پاکیزہ ہے
اگر تم رات کو محفوظ پناہ گاہ میں سوتی ہو تو
نہ کرنا برباد اپنا آشیانہ
ورنہ روند دی جاو گی نوچ لی جاو گی
جو طلاق لیئے بیٹھی ہیں پوچھو ان سے
وہ سوچ رہی ہوتی ہیں نہ جانے کتنے بچوں کے باپ کی ہمسفر بنوں گی
نہ جانے وہ کیسا سلوک کرے گا
اور پھر ساری زندگی یہ طعنہ سنتے گزر جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہوتی تو طلاق کیوں لیتی
خیر وہ لڑکی الحمداللہ محفوظ ہے لیکن وہ روتی ہے
زمانے کی بے حسی پہ
اور جانتے ہو کسی عورت کی بربادی میں کہیں نہ کہیں مرد ہوتا ہے
محبت کر کے چھوڑنے والا دعویدار ہو یا نکاح کر کے طلاق دینے والا بدبخت
عورت خدا کی قسم میرے معاشرے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی
AA
AAAA
میں نے کہا ڈرو نہیں میں اکیلا ہی ہ
ایک قیدی ہے
کبھی باپ کی پگڑی پہ لٹ گئی تو کبھی ساس کے زہر آلود لہجے پہ
کبھی شوہر کی انا پہ خاک ہو گئی تو کبھی اولاد کی وجہ سے
مرد اگر سمجھ جائیں میری اس تحریر کو تو شاید میرا معاشرہ بدل جائے
ہاں کچھ عورتیں ہوتی ہیں بازارو جن کو جتنی بھی عزت دے دو وہ عزت کی چادر سے زیادہ بازار کی رونق بننا پسند کرتی ہیں پھر ایسی بدبخت عورتیں ایک بدبودار معاشرے کو جنم دیتی ہیں_🙏🙏🙏
شئیر ضرور کریں
No comments:
Post a Comment