Thursday, March 23, 2023
صحت مند جوس
https://rumble.com/v2ebxd2-which-drink-is-good-for-health-sugar-cain-juice-or-other.html?mref=1w9lig&mc=cqb4y
Sunday, March 19, 2023
متوازن غذا کیا ہے اور کیوں ضروری ہے
اللہ تعالی نے اس دنیا میں
مختلف انواع و اقسام کے پودے ، درخت ، پھول ، پھل ، سبزیاں ، میوہ جات اور جانور پیدا کیے
اور انھیں انسان کی خوراک کا ذریعہ بنایا۔
جس طرح ایک گاڑی کو کام کرنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک
اس کا ایندھن پورا نہ ہو اور اس کی حالت اچھی نہ ہو وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر سکتی۔ بالکل اس طرح انسانی جسم کو گروتھ اور نشوونما کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمیں توانائی یعنی انرجی خوراک سے ملتی ہے۔ اگر ہماری غذا متوازن ہو تو ہمارے جسم کی کارکردگی اور نشوونما بھی بہتر اور اچھی ہوتی ہے۔
انسانی جسم کو اپنا کام بہتر طریقے سے سر انجام دینے کے لیے نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیوٹرینٹس ہمارے جسم کے ہر عضو کے لیے بے حد ضروری ہیں . یہ انرجی کا اہم ذریعہ ہونے کے علاوہ جسم میں ہونے والے
اہم میکانزمز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر فوڈ کو گروپس میں تقسیم کیا جائے تو مجموعی طور پرفوڈ گروپس چھے ( 6 ) بنتے ہیں۔ ایک پرفیکٹ اور بیلنسڈ ڈائٹ جو ہمارے جسم کی ضرورت ہے وہ ان چھ گروپس کے فوڈ آئٹمز سے مل کر بنتی ہے:
1۔کاربوہائیڈریٹس، 2۔پروٹینز، 3۔فیٹس، 4۔وٹامنز اینڈ منرلز، 5۔ڈائٹری فائبر، 6۔پانی۔
ایک مکمل غذا جو انسانی جسم کی بہتر کارکردگی نشوونما اور اسے بیماریوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے، ان تمام
فوڈ گروپس کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ایک مخصوص تناسب ان تمام فوڈ گروپس سے لینا ضروری ہے۔
ایک مکمل متوازن غذا میں سب سے پہلے ہم کیلوریز کی ضروری مقدار کا تعین کرتے ہیں۔ ہمارے وزن ، قد ، عمر اور جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے کیلوریز کو شمارکیا جاتا ہے۔ ایک عام خاتون جو زائد وزن کی نہ ہو ، اس کی روزانہ کیلورک ریکوائرمنٹ تقریباً 2000 ہوتی ہے۔ ایک عام صحت مند مردکی کیلورک ریکوائرمنٹ تقریباً 2500 ہوتی ہے۔
متوازن غذا میں کیلورک ریکوائرمنٹ کو پورا کرنے کے لیے ہم کیلوریز کو فوڈ گروپس کے تین بڑے گروپس جنھیں ہم میکرو نیوٹرینٹ کہتے ہیں ، میں تقسیم کرتے ہیں۔
ہمارے کیلوریز کا 60-65 فیصد کاربوہائیڈریٹس سے پورا ہونا چاہیے کیونکہ یہ انرجی کا اہم سورس ہیں۔ 10-12 فیصد
پروٹینز سے پورا ہونا چاہیے کیونکہ یہ بالوں ، ناخنوں ، ہڈیوں اور پٹھوں کے لیے ضروری ہیں اور خون کا بھی اہم جزو ہیں۔
اور 20- 25فیصد کیلوریز ہمیں فیٹس سے لینی چاہئیں۔ یہ بھی ہمارے غذا کا اہم جزو ہیں اور ہمیں انرجی مہیا کرنے کے ساتھ سیل گروتھ میں بھی مدد کرتی ہیں۔ بلڈ کولیسٹرول لیول اور بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول رکھتی ہیں۔
وٹامنز منرلز اور ڈائٹری فائبر کو ہم مائیکرو نیوٹرینٹس کا نام دیتے ہیں، یہ بھی جسم کی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ اور ہمارے جسم میں ہونے والے کیمیکل پروسیسز کا اہم حصہ ہیں۔ وٹامنز اور منرلز زیادہ تر سبزیوں اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔
ڈائٹری فائبز نظام انہضام یعنی ڈائجیسٹو سسٹم کے لیے ضروری ہے ، یہ بھی سبزیوں پھلوں اور کمپلکیس کاربوہائیڈریٹس
میں پایا جاتا ہے۔ پانی بھی ہماری غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ باڈی میں ہونے والے مختلف میکانزمز میں اہم کردار ادا
کرتا ہے۔ بلڈ پریشراور باڈی ٹمپریچر کو بھی متوازن رکھتا ہے۔ غذا کے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اور گردوں کا فنکشن بہتر بناتا ہے۔
متوازن خوراک کے لیے تمام فوڈ گروپس میں ریمکنڈڈ ڈائٹری الاؤنس کے مطابق غذا استعمال کریں۔ اور ہر چیز اعتدال میں استعمال کریں اور خود کو بیماریوں سے بچا کر ایک صحت مند زندگی گزاریں۔
کاربوہائیڈریٹس ( نشاستہ )
کاربوہائیڈریٹس جن کا دوسرا نام ’شوگرز‘ ہے، ہماری غذا کا اہم حصہ ہیں۔ یہ جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں ۔ ہماری متوازن غذا کا تقریباً 55سے 65 فیصد حصہ کاربوہائیڈریٹس سے پورا ہوتا ہے۔ ایک میڈیکل ریسرچ کے مطابق 2000 کیلوریز لینے والے انسان کو
روزانہ 275 گرام کاربوہائیڈریٹس لینے چاہئیں۔ کاربوہائیڈریٹس کا ایک گرام ہمیں چار کیلوریز دیتا ہے۔
کاربوہائیڈریٹس کو عموماً دوگروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے:
Simple carbohydrates
Complex carbohydrates
سمپل کاربوہائیڈریٹس کو ہم (Bad carbohydrates) بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ ہماری صحت کے لیے اچھے نہیں ہوتے۔ ان میں فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، اس لیے یہ جلدی ہضم ہوکر خون میں
شامل ہو جاتے ہیں، موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر اور دل کی بیماریوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔
سمپل کاربوہائیڈریٹس کو مزید تین گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے:
Monosacharrides.
Oligosacharries.
Diasacharrides.
یہ عام طور پر ایک یا دو شوگر مالیکیولز سے مل کر بنتے ہیں جو بہت جلدی ہضم ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور بلڈ شوگر لیولز کو بڑھا دیتے ہیں، انھیں ’ایمپٹی کیلوریز‘
بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں وٹامنز، منرلز اور ڈائٹری فائبر نہیں پایا جاتا۔ یہ صرف ہمیں کیلوریز دیتے ہیں جو ہماری غذائی ضروریات کو پورا کر دیتی ہیں لیکن وہ بنیادی اجزاء فراہم نہیں کرتے جو ہماری گروتھ، نشوونما اور صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
سمپل کاربوہائیڈریٹس ڈیری پروڈکٹس، بیکڈ پروڈکٹس، بسکٹ، کیک،
کینڈیز، سوڈا ڈرنکس اور فرائیڈ فوڈ آئٹمز میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وائٹ فلور، چینی، وائٹ پولشڈ رائس وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کو (Good carbohydrates) بھی کہا جاتا ہے۔کاربوہائیڈریٹس کی اس قسم میں فائبر شامل ہوتا ہے۔ یہ ہم زیادہ تر پودوں سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور خون میں شوگر کی مقدار کو جلدی نہیں بڑھاتے۔
ان کے استعمال سے بلڈ گلوکوز لیول متوازن رہتا ہے۔ یہ زیادہ تر سبزیوں، پھلوں، دالوں اور لوبیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ گندم، جو کا دلیہ اور براؤن رائس بھی کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کا ذریعہیں۔ غذا میں کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس تقریباً 55 سے 65 فیصد تک شامل کریں۔ یہ کاربوہائیڈریٹس پھلوں ، سبزیوں، دالوں اور گندم سے حاصل کریں۔ سمپل کاربوہائیڈریٹس کو اپنی غذا سے نکال دیں۔
پروٹین (لحمیات)
پروٹینز انسانی غذا کا ایک اہم جزو ہیں۔ یہ amino acids سے مل کر بنتے ہیں اور ہمارے جسم کی گروتھ اور نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ جسم میں ہونے والے کیمیکلز ریکشنز کا ایک لازمی جزو ہیں۔ اس کے علاوہ ٹشوز کو Repair کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
بالوں اور ناخنوں کی صحت کے لیے بھی ضروری ہیں۔ متوازن غذا میں ہماری ٹوٹل کیلوریز کا تقریباً 10 سے 12 فیصد حصہ پروٹینز سے پورا ہونا لازمی ہے۔ 0.8 گرام فی
کلو گرام جسمانی وزن کے حساب سے پروٹینز لینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ایک انسان جس کا وزن 70 کلو گرام ہو، اسے58 گرام پروٹینز روزانہ اپنی غذا میں شامل کرنے چاہیے۔ بعض حالات میں پروٹینز کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
چھوٹے بچوں کو پروٹینز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کی گروتھ میں پروٹینز کا اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ حمل کے
دوران میں بھی پروٹینز کی ضرورت عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اور بڑی عمر کے افراد کو بھی پروٹینز کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔
پروٹینز کی دو اقسام ہیں:
Plant based
Animal based
پلانٹ بیسڈ پروٹینز ہم پودوں سے حاصل کرتے ہیں اور یہ نٹس میں پایا جاتا ہے۔ بادام، اخروٹ،کاجو، پستہ وغیرہ۔ اینیمل بیسڈ پروٹینز ہم جانوروں سے حاصل کرتے ہیں۔
ان میں دودھ ، گوشت ، انڈہ، مچھلی، چکن وغیرہ شامل ہیں۔ ہمیں اپنی غذا میں اینیمل اور پلانٹ دونوں سے حاصل ہونے والی پروٹینز شامل کرنی چاہئیں۔
پروٹینز اینٹی باڈیز اور ہارمونز بھی بناتے ہیں، اس لیے یہ امیون سسٹم اور باڈی میٹابولزم کے لیے بہت ضروری ہیں۔یہ توانائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ آپ وزن کم کر رہے ہیں تو غذا میں پروٹینز لازمی شامل کریں۔
متوازن غذا آپ کو نہ صرف بیماریوں سے بچاتی ہے بلکہ بیماروں کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر آپ شوگر کے
مریض ہیں تو اپنی غذا میں پروٹینز کو لازمی شامل کریں۔ یہ بلڈ گلوز کو Stablize کرتے ہیں اور انسولین resistance سے بچاتے ہیں۔
چکنائی ( چربی )
فیٹس جسے ہم اردو میں ’چربی‘ کہتے ہیں انسانی غذا کا ایک اہم جزو ہے۔ انسٹیٹوٹ آف میڈیسن اینڈ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 30سے 35 فیصد کیلوریز فیٹ سے غذا میں شامل کرنا ضروری ہیں۔ ایک انسان جس کی کیلورکریکوائرمنٹ 2000 ہے،
اسے 70 سے 80 گرام فیٹس غذا میں شامل کرنے چاہئیں۔ فیٹ ہمیں انرجی مہیا کرنے کے علاوہ ہماری برین گروتھ کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ Fat soluble وٹامنز
کو جسم میں جذب ہونے میں مدد کرتی ہے۔ وٹامن A,E,D,K کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے۔
فیٹس کی تین اقسام ہیں:
Saturated fats
Unsaturated fats
Trans fats
سچوریٹڈ فیٹس کمرے کے درجہ حرارت میں ٹھوس حالت میں ہوتی ہے، اس قسم میں گھی، مکھن وغیرہ شامل ہیں۔ ہماری روزانہ کی خوراک میں سچوریٹڈ فیٹس 6 فیصد سے بھی کم ہونی چاہیے، اسے استعمال ضرور کریں
لیکن اعتدال میں استعمال کریں۔ کیونکہ اس کا زیادہ استعمال LDL بڑھاتا ہے۔ LDL بیڈ کولیسٹرول ہے۔ جب خون میں اس کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے تو آرٹریز میں
کلوٹنگ کرتا ہے، اور جب خون جم جاتا ہے تو وہ خون کی نالیوں میں سے گزر نہیں سکتا۔ اس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
’ان سچوریٹڈ فیٹس روم ٹمپریچر پر مائع حالت میں ہوتی ہیں اور یہ پلانٹ بیسڈ آئلز ہوتے ہیں۔ مثلاً زیتون کا تیل،کینولا آئل، ناریل کا تیل اور باقی سب تیل شامل ہیں۔ ہمیں اپنی غذا میں یہ سچوریٹڈ فیٹس شامل کرنے
چاہئیں۔سچوریٹڈ فیٹس کو بھی مکمل طور پر نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ ان دونوں کو اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔
زیتون کا تیل اور دیسی گھی کھانا بنانے کے لیے بہترین ہیں۔
ٹرانز فیٹس ،’ان سچوریٹڈ فیٹس‘ کی ایک قسم ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں: نیچرل اور آرٹیفیشل۔ نیچرل ٹرانز فیٹس زیادہ تر بیف، مٹن وغیرہ میں پائی جاتی ہے اور آرٹیفیشل ویجی ٹیبل آئلز وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔
انھیں ایک پروسیس سے گزار کر بنایا جاتا ہے۔ اس پروسس کو ہائیڈروجینیشن کہتے ہیں۔
یہ فیٹ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لئے اسے اپنی غذا سے
نکال دیں۔ یہ زیادہ تر فرائیڈ فوڈ آئٹمز میں پایا جاتا ہے اور بلڈ پریشر،ہائی کولیسٹرول لیول اور دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ فیٹ کا ایک گرام ہمیں نو کیلوریز فراہم کرتا ہے جوکاربوہائیڈریٹس اور پروٹینز
کے ایک گرام کی کیلوریز سے دو گنا زیادہ ہے۔
وٹامنز اورمنرلز
وٹامنز اور منرلز کو ہم ‘مائیکرو نیوٹرینٹس’ بھی کہتے ہیں۔ ہمارے جسم کو کاربوہائیڈریٹس ، پروٹینز اور فیٹس کے مقابلے میں ان کی ضرورت کم مقدار میں ہوتی ہے، اس لیے انھیں ’مائیکرونیوٹرینٹس‘
کہتے ہیں۔ وٹامنز اور منرلز ہماری غذا کا اہم جزو ہیں۔ یہ ہمیں توانائی مہیا کرنے کے علاوہ ہماری سیل گروتھ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی کلوٹنگ میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔ ہمارا جسم وٹامنز خود نہیں بنا سکتا اس لیے ہمیں جسم کی ضروریات
کو پورا کرنے کے لیے وٹامنز اور منرلز غذا سے حاصل کرنا ہوتے ہیں۔وٹامنز کی دو اقسام ہوتی ہیں:
چربی میں حل پذیر وٹامنز
پانی میں حل پذیر وٹامنز
واٹر Solubls وٹامنز میں وٹامن بی اور وٹامن سی شامل ہیں۔ وٹامن بی کی مزید بہت سی اقسام ہیں۔ مثلاً وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی فائیو، بی سکس، بی نائین، اور بی 12 ۔ اور وٹامن سی کو اسکوربک ایسڈ
بھی کہتے ہیں۔
بی وٹامنز کے سورسز میں انڈہ ، سی فوڈز ، دالیں ، نٹس ، چھوٹاگوشت ، سبز پتوں والی سبزیاں وغیرہ شامل ہیں۔
وٹامن سی امرود اور سٹرس فروٹس جس میں مالٹا، لیموں،گریپ فروٹس وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔
چربی میں حل پذیر وٹامنز میں وٹامن A,D,E,K شامل ہیں ان کے سورسز میں بیف لیور ، فش اور فش آئلز اور ڈیری پروڈکٹس شامل ہیں۔
منرلز یعنی معدنیات
معدنیات بھی ہمارے جسم کے نارمل فنکشن کے لیے ضروری ہیں۔ منرلز کی
دو اقسام ہیں:
میکرو منرلز، ٹریس منرلز
میکرو منرلز کی ضرورت انسانی جسم کو زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔ ان میں کیلشیم ، سوڈیم ، فاسفورس ، میگنشیم ، کلورائیڈ اور
سلفر شامل ہیں۔ یہ سب منرلز ہمارے جسم میں ہونے والے میکانزم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جسم کے نارمل فنکشن کے لیے
ضروری ہیں۔
ٹریس منرلزکی جسم کو کم مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ آئرن ، میگانیز ، کوپر ، کرومیم ، کوبالٹ ، آئیوڈین ، فلورائیڈ وغیرہ۔
یہ ہمارے جسم میں ہونے والے کیمیکل ری ایکشنز میں انزائم کیٹالسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ باڈی کے Ph کو بیلنس
رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور یہ خوراک سے حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ دودھ، انڈہ، مچھلی، گوشت، سبزیوں اور پھلوں
میں پائے جاتے ہیں۔
آپ خود کو بیماریوں سے بچا کر صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو متوازن غذا استعمال کریں۔ غذا میں وٹامنز اور منرلز قدرتی ذرائع سے شامل کرنے کی کوشش
کریں۔ تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کریں۔ فرائیڈ اور پروسیسڈ فوڈ سے اجتناب کریں۔
غذائی ریشہ
ڈائٹری فائبر بھی انسانی غذا کا ایک جزو ہے۔ یہ انسانی جسم میں جذب
نہیں ہوتا۔ یہ پودوں کا وہ حصہ ہوتا ہے جسے ہضم کرنے کی صلاحیت انسانی جسم میں نہیں ہے کیونکہ اسے ہضم کرنے کے لیے cellulase انزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور یہ انزائم انسانی جسم میں موجود نہیں ہوتا۔ یہ نظام انہضام کی بہتر کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔اس کے علاوہ یہ وزن کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسے کھانے سے بھوک کم لگتی ہے اور (Feeling of fullness ) جسے ہم (Satiety)کہتے ہیں، وہ آتی ہے
اور ہمیں بھوک کم لگتی ہے جس کی وجہ سے وزن کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ (Gut Health)کے لیے بہت مفید ہے۔ قبض اور آنتوں کے کینسر سے بچاتا ہے۔
ڈائٹری فائبر ہمیں سبزیوں ، پھلوں اور دالوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ڈائٹری فائبر کاربوہائیڈریٹس کی وہ قسم ہے جو کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز اور فیٹس کی طرح انسانی جسم میں جذب نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو مینٹین کرتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں
میں خون میں گلوکوز لیول کو برقرار رکھتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ گلوکوز لیول ہائی نہیں ہوتا اور انسولین کی مزاحمت سے بھی بچاتا ہے اور دل کی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔
ڈائٹری فائبر کی دو اقسام ہیں:
Soluble dietary fiber
Insoluble dietary fiber
حل پذیر غذائی ریشہ پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ یہ معدے کی نالی میں جا کر gel کی طرح کا ایک مرکب بناتا ہے جو غذا کے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔یہ زیادہ تر جو،
باجرہ، مٹر، لوبیا، گریپ فروٹ اور اسپغول میں پایا جاتا ہے اور یہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو برقرار رکھتا ہے اور بڑھے ہوئے کولیسٹرول لیول کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذیابیطس کے مریضوں میں انسولین کی مزاحمت کو روکتا ہے
اور خون میں گلوکوز لیول کو برقرار رکھتا ہے، اسے بڑھنے سے روکتا ہے اور بڑھے ہوئے گلوکوز لیول کو کم کرتا ہے۔
’ان سولوبل ڈائٹری فائبر‘ پانی میں حل نہیں ہوتا اور عمل انہضام کی نالی میں دوسرے اجزاء کے ساتھ مل کر خوراک کو معدے اور آنتوں سے آسانی سے گزرنے میں مدد دیتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔’ ان سولوبل فائبر‘
زیادہ تر Whole wheat ، سبزیوں اور نٹس میں پایا جاتا ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ایک نارمل انسان کو ایک دن میں 25 سے35 گرام ڈائٹری فائبر سولوبل اور ان سولوبل دونوں ذرائع سے اپنی غذا میں شامل کرنا چاہے۔
یاد رہے کہ آپ خود کو بیماریوں سے بچا کر ایک صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی غذا میں قدرتی غذائیں پھل، سبزیاں، دالیں لوبیا ، گندم اور جو کا استعمال کریں اور خود کو بیماریوں سے بچائیں۔
پانی
پانی کو اہم نیوٹرینٹ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری غذا کا اہم حصہ ہے اور ہمارے جسم میں اہم میکانزمز کے لیے ضروری ہے۔ پانی کا مالیکیول ایک آکسیجن اور دو ہائیڈروجن مالیکیولز سے مل کر بنتا ہے۔ یہ نیوٹرینٹس
کی ترسیل کے لیے ضروری ہے، نیوٹرینٹس کو سیل تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ جگر اور گردوں سے زہریلے مواد کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ باڈی ٹمپریچر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آکسیجن کو سیل تک پہچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسم میں ہونے والی کیمکل ریکشنز کا اہم حصہ ہے۔ ہماری باڈی آرگنز اور ٹشوز کے لیے ضروری بھی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پانی زیرو کیلوریز ہونے کی وجہ سے وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کھانے سے پہلے اس کا استعمال بھوک کو کم کرتا ہے۔ یہ بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ’یو۔ایس نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ کے مطابق عام صحت مند مرد کو دن میں پندرہ اور ایک خاتون کو بارہ گلاس پانی پینا چاہیئں۔ یہ مقدار موسم ، ٹمپریچر
اور بیماری میں مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ عمومی طور پر ایک دن میں کم از کم دس سے بارہ گلاس پانی لازمی پئیں۔ پانی روم ٹمپریچر والا یا نیم گرم پانی کا استعمال کریں۔ صبح نہار منہ کھانا کھانے سے پہلے اور ایکسرسائز کے دوران پانی پینا صحت کے لیے مفید ہے۔
مذید اس
طرح کی پوسٹ پڑھنے کےلئے اور ویڈیو دیکھنے کے لیے اس یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج
Health is Wealth With Dr Javed
کو سبسکرائیب اور لائیک اور فالو کریں
شکریہ
Saturday, March 4, 2023
قبض ام الامراض کا مستقل علاج
اسپغول چھلکا دو چمچ‘ زیتون کا تیل ایک چمچ دونوں کو ملا کر صبح اور شام استعمال
کریں‘ بے شمار امراض کا مجرب ہے‘ نہایت مزیدار بھی ہے‘ مگر مستقل مزاجی چاہیے۔
قبض کے معنی ’’پکڑ یا گرفت‘‘ کے ہیں آنتوں کی کمزوری‘ جسمانی کمزوری یا فضلہ کا زیادہ غلیظ ہونا کی وجہ سے اخراج بروقت
نہیں ہوتا‘ یہ ذہن میں رکھیں ہر شخص کا اخراج (پاخانہ) کا اعتدال بہ لحاظ وقت اور مقدار یکساں نہیں ہوتا ہے۔ کھانا
معدہ سے نکل کر پیچ دار آنتوں سے ہوتا ہوا بڑی آنت میں آتا ہے وہاں سےا خراج ہوجاتا ہے۔ آنتوں میں کھانا اگر اچھی طرح کھایا گیا ہے تو اخراج بھی صبح وقت پر ہوجائے گا اور اگر جلدی جلدی بوتل یا پانی سے نگلا گیا ہے تو اندر جاکر فساد برپا کرے گا۔ آنتوں میں جاکر‘ کھانے سے جوس آنتیں چوس لیتی ہیں
اور باقی خوراک غلیظ ہوکر نکلتی ہے‘ کوے اور کچھوؤں میں بڑی آنت نہیں ہے جس کی وجہ سے کوے اور کچھوے کی عمر ایک ہزار سال تک ہوسکتی ہے‘ یہ قدرت کا کام ہے بڑی آنتوں کی کمزوری یا خرابی کی وجہ سے ہی بے شمار امراض جنم لیتے ہیں جن میں بادی بواسیر‘ خونی بواسیر‘ٹینشن‘ کمزوری‘ کمی خون‘ کمزوری‘ بے چینی‘ چکر آنا‘ دل گھبرانا‘ جوڑوں کا درد‘ جسم کا رنگ کالا یا سرمئی ہونا‘ سر میں درد‘ خارش‘ سانس میں بدبو‘
گیس خصوصاً جگر کے امراض‘ موٹاپا‘ قولنج‘ آنکھوں کے امراض ہوتے ہیں‘
اس لیے اسے ام الامراض(امراض کی ماں) کہا جاتا ہے‘ پنڈلیوں اور رانوں میں درد لاحق ہوجاتا ہے‘ اعصاب پر زور پڑتا ہے‘ سانس
میں تنگی ہوجاتی ہے‘ گرمی اور حبس کے دنوں میں قبض ہرگز نہ ہونے دیں یہ آپ کے اختیار میں ہے‘ موسم کی وجہ سے کم
اور قبض کی وجہ سے حبس کے موسم میں مریض زیادہ پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ قبض کی ایک وجہ ایلومونیم کے برتن بھی ہیں‘ ایلومونیم کے
زہریلے اثرات کی وجہ سے قبض اور جوڑوں کے درد کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں ایلومونیم وجہ مرض ہے‘ ایلومونیم کے برتن میں پانی گرم کریں تو صاحبان
تک پانی کے کناروں تک باقاعدہ سبززرد ایک لائن نظر آئے گی اگر گرم شدہ پانی ٹھنڈا کرکے اس میں مچھلیاں ڈال دیں ایلومونیم کے زہریلے پن کی وجہ سے وہ مرجاتی ہیں۔
قبض دو قسم کی ہوتی ہے‘ اتفاقی‘ دائمی۔
اسباب: ازاربند مضبوطی سے باندھنا‘ کھانے کے ساتھ بوتل یا پانی پینا۔ پیدل کم چلنا‘ پراٹھے‘ نان‘ سموسے‘ مصالحہ دار اور تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال‘ کھانے سے ہٹ کر پانی کا کم استعمال کرنا۔ سبزی کا کم استعمال‘ پیک شدہ مصالحہ جات کا استعمال (کیونکہ ان میں کیمیکل استعمال ہوتا ہے) یہ
پیکنگ شدہ مصالحہ جات کھانے میں ذائقہ ضرور پیدا کردیتے ہیں مگر جب آپ ان کی پیکنگ پر لکھے ہوئے اجزاء میں دیکھیں تو اس میں ٹاٹری‘ کلر‘ اور مختلف قسم کے تیزاب‘ امینوجینز وغیرہ لکھے ہوں گے۔ سفید آٹا‘ قبض دور کرنے کی ادویات
وغیرہ استعمال کرنے‘ یہ ادویات آنتوں پر عارضی قوت تحریک پیدا کرتی ہیں اس سے لگا فضلہ خارج کرتی ہیں لیکن اس سے آنتیں بے حال ہوجاتی ہیں یہ ایسے ہی ہے کہ مشقت والا کام (دوڑ لگانا ورزش کرنا) کرے اس سے وقتی کمزوری‘
تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح آنتیں آرام چاہتی ہیں لیکن ہم دوبارہ کھانے میں اسی بداحتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو زیادہ کام پر مجبور کردیتے ہیں جس سے کھٹے ڈکار‘ بدہضمی‘ گیس کی زیادتی اور دوبارہ
قبض ہوجاتی ہے۔ پرانے حکماء جلاب موسم اور طبیعت کے مطابق استعمال
کراتے تھے‘ قبض کشاء ادویات کے بعد آرام‘ نرم غذا‘ شربت پر زیادہ زور دیتے تھے۔ مستقل مریض اگر خاص احتیاط کریں تو قبض ختم ہوسکتی ہے‘ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔غذا چبا چبا کر کھائیں‘ کھانے کے ساتھ پانی کم سے کم استعمال کریں‘ کھانے سے آدھ گھنٹہ پہلے پانی پئیں اورایلومونیم کے برتن کچھ عرصہ کیلئے تبدیل کردیں‘ ایلومونیم کے برتن زیادہ عرصہ استعمال کرنے سےایلومونیم ٹوٹ ٹوٹ کر کھانے میں شامل ہوجاتا ہے اور وہ ہم کھالیتے ہیں۔ ملین اشیاء قبض کشا ادویات سے بہت بہترین ہیں۔
قبض کیلئے انتہائی مفید ہے۔ اسپغول کا چھلکا دو چمچ‘ زیتون کا تیل ایک چمچ دونوں کو ملا کر صبح اور شام استعمال کریں‘ بے شمار امراض کا مجرب ہے‘ نہایت مزیدار بھی ہے‘ مگر مستقل مزاجی چاہیے۔
حضرات حکماء کرام اسپغول کے مطابق اسے دن میں تین مرتبہ آدھا آدھا چمچ استعمال کریں‘ بے ضرر شے ہے‘ ثابت اسپغول کو چبائیں نہیں بس نگل لیں۔
کھانے سے گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ پہلے پانی پئیں دوران کھانا پانی ہرگز نہ پئیں اور کھانے کے دو گھنٹے بعد تک پانی ہرگز نہ پئیں۔ اس کے بعد جتنا چاہیں پانی پئیں۔ چھوٹے چھوٹے لقمے اور آہستہ آہستہ چبا کر سنت نبویؐ کے مطابق کھانا کھائیں‘ اس سے کھانے کے ساتھ پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ جلدی اور بڑے بڑے لقمے کھانےسے لعاب کھانے میں شامل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔
پکے ہوئے امرود‘ کیلے دن میں ایک مرتبہ ضرور استعمال کریں۔ پپیتا ایک وقت میں ایک یا دو پھانک سے زیادہ استعمال نہ کریں۔ تربوز‘ خربوزہ موسم کے لحاظ سے خوب استعمال کریں۔ املی اور آلوبخارہ کا شربت‘ یہ نہایت مفید اور مزیدار ہے‘ گرمیوں میں پانی کی کمی اور ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ ضرور پئیں۔کچھ عرصہ قبل لاہور میں کئی جگہ گوند کتیرا‘ تخم ملنگا‘ شکر کے شربت میں گھول کر بکتا تھا جس سے قبض دور‘ جسم میں توانائی اور طاقت ملتی ہے‘ اندرون شہر کے لوگ صندل کے شربت میں تخم ملنگا‘ اسپغول کا چھلکا وافر استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی قبض دور کرنے میں بہت مفید ہے۔ تخم بالنگو اس معاملے میں بہت ہی مفید ہے۔ اسے دسترخوان پر ضرور رکھیں‘ کھانے سے پہلے کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ تخم بالنگو کی افادیت اکثر محترم حکیم صاحب اپنے طبی آرٹیکل میں لکھتے رہتے ہیں۔ روغن بادام کے دس قطرے نیم گرم دودھ میں ڈال کر استعمال کریں۔ براؤن چاول (بغیر پالش شدہ) استعمال کریں۔ خالص مصالحے استعمال کریں۔ پیکنگ شدہ بازاری مصالحے جن میں طرح طرح کے کیمیکل ڈالے گئے ہوں ہرگز نہ استعمال کریں۔ انجیر اور منقیٰ جوش دیکر بطور قہوہ استعمال کرنے سے بھی قبض دور ہوجاتی ہے۔
Friday, March 3, 2023
How treatment cirhosis of liver|how protect your live|how safe liver from disease
How clean the blockage liver#liver#cirhosis#dangercondition
The Secret to Natural Weight Loss: A Scientific Analysis of Garlic, Ginger, Cloves, and Honey
By: Dr. Javied (Health Is Wealth) In an era where obesity has become a global epidemic, people in countries like the USA and Canada are incr...
-
How important dates eating in Ramazan After prolonged periods of hunger or fasting, our body directs us toward sources with high carbohydra...
-
اسلام کو AAAA AAAAA شادی ہال ، نکاح اور ولیمہ کی تقریب https://getaizenpower24.com/start/index.php#aff=Javedahmedanjum اسلام...
-
The liver performs numerous important functions in the body, including: 1. Detoxification: The liver helps to break down harmful substances...



